<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو بلاگز</title>
	<atom:link href="http://urdublogz.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://urdublogz.com</link>
	<description>اردو بلاگران کی اجتماع گاہ</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Feb 2012 17:44:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
		<item>
		<title>گرین واش: پاکستان 3، انگلستان 0</title>
		<link>http://cricnama.com/pak-eng-2012-third-test-report/</link>
		<comments>http://cricnama.com/pak-eng-2012-third-test-report/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 17:44:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسد شفیق]]></category>
		<category><![CDATA[اظہر علی]]></category>
		<category><![CDATA[انگلستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعید اجمل]]></category>
		<category><![CDATA[عمر گل]]></category>
		<category><![CDATA[مصباح الحق]]></category>
		<category><![CDATA[مونٹی پنیسر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان انگلستان 2012ء]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://cricnama.com/?p=11962</guid>
		<description><![CDATA[گزشتہ ماہ کے وسط میں پاک-انگلستان سیریز کے آغاز سے قبل بھلا کسی نے تصور بھی کیا ہوگا کہ پاکستان عالمی نمبر ایک کے خلاف کلین سویپ کرے گا؟ تنازعات، داخلی سازشوں، نا اہل انتظامیہ اور دنیا میں سب سے کم پیسے ملنے کے باوجود پاکستان نے غیر ممکنات کو ممکن کر دکھایا اور اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ ماہ کے وسط میں پاک-انگلستان سیریز کے آغاز سے قبل بھلا کسی نے تصور بھی کیا ہوگا کہ پاکستان عالمی نمبر ایک کے خلاف کلین سویپ کرے گا؟ تنازعات، داخلی سازشوں، نا اہل انتظامیہ اور دنیا میں سب سے کم پیسے ملنے کے باوجود پاکستان نے غیر ممکنات کو ممکن کر دکھایا اور اس مشن کو مکمل کیا جو وہ آج سے 7 سال پہلے 2005ء میں مکمل نہ کر پایا تھا یعنی کہ انگلستان کو سیریز کے تمام ٹیسٹ مقابلوں میں شکست دینا۔ یہ پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ اس نے انگلستان کے خلاف کسی سیریز کے تمام مقابلے اپنے نام کیے ہوں۔</p>
<div id="attachment_11963" class="wp-caption alignleft" style="width: 310px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/pak-eng-2012-pakistani-team-with-winning-trophy-of-test-series.jpg" rel="lightbox[11962]"><img class="size-medium wp-image-11963" title="پاکستان کی ٹیم ایک اور ٹرافی کے ساتھ، بلاشبہ یہ اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے سب سے یادگار لمحات ہیں (تصویر: AFP)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/pak-eng-2012-pakistani-team-with-winning-trophy-of-test-series-300x218.jpg" alt="پاکستان کی ٹیم ایک اور ٹرافی کے ساتھ، بلاشبہ یہ اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے سب سے یادگار لمحات ہیں (تصویر: AFP)" width="300" height="218" /></a>
<p class="wp-caption-text">پاکستان کی ٹیم ایک اور ٹرافی کے ساتھ، بلاشبہ یہ اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے سب سے یادگار لمحات ہیں (تصویر: AFP)</p>
</div>
<p>ویسے 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ تنازع کی دلدل میں دھنسنے کے بعد جب مصباح الحق کو کپتان بنا کر ٹیم از سر نو تشکیل دی گئی تھی تو کسی نے تصور نہیں کیا ہوگا کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں مصباح پاکستان کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک بنا دیں گے۔ اس لیے فتح کا سب سے پہلا کریڈٹ 15 مقابلوں میں 9 فتوحات اور صرف ایک شکست اور پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں کی کارکردگی کے قریب پہنچنے والے مصباح الحق کو جانا چاہیے۔ جنہوں نے مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی ٹیم کے حوصلوں کو بلند رکھا اور خود بھی اچھی کارکردگی دکھا کر مثال پیش کی۔</p>
<p>دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں، جہاں پاکستان کو کبھی کسی مقابلے میں شکست نہیں ہوئی، ہونے والے تیسرے و آخری ٹیسٹ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ ایک جانب جہاں پاکستان پہلی اننگز میں 99 رنز پر آل آؤٹ ہوا تو دوسری اننگز میں انہی قومی بلے بازوں نے 365 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کر لیا اور بلے بازوں کی مسلسل ناکامیوں سے بے حال انگلستان کو 324 رنز کا مشکل ہدف دیا جس کے تعاقب میں وہ چوتھے روز 252 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور پاکستان کو ایک تاریخی کامیابی سے نواز گیا۔ اس وکٹ نے بھی کیا عجیب و غریب نظارے پیش کیے؟ جہاں ایک جانب پہلے دن 16 وکٹیں گریں، بالکل اسی وکٹ اگلے روز یہ عالم تھا کہ دوسرے روز کے اختتام پر 222 پر پاکستان کی صرف دو وکٹیں گری تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اظہر علی اور یونس خان نے پچ کو سمجھ کر کھیلا اور حریف بلے بازوں کو دکھایا کہ اس وکٹ پر کھیلنے کے لیے کون سی تکنیک سب سے بہتر ہے۔</p>
<p>یہ ٹیسٹ میں کرکٹ کی تاریخ کے کمیاب ترین مواقع میں سے ایک تھا جب کوئی ٹیم پہلی اننگز میں 100 رنز سے قبل آؤٹ ہونے کے باوجود جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہو۔ آخری مرتبہ 1907ء میں انگلستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا یعنی کہ 100 سے زائد سالوں کے عرصے سے دنیا کی کوئی بھی ٹیم ایسی نہ تھی جو پہلی اننگز میں اتنا کم مجموعہ اکٹھا کرنے کے باوجود جیت جائے لیکن ایک جانب پاکستانی باؤلرز نے پہلی اننگز میں انگلستان کو 141 رنز پر آل آؤٹ کر کے اسے بڑی برتری لینے سے روکے رکھا تو دوسری اننگز میں انہی بلے بازوں نے بہت ہی ذمہ دارانہ کارکردگی دکھائی۔ خصوصاً اظہر علی کے 157 اور تجربہ کار یونس خان کے 127 رنز اور دونوں کے درمیان 216 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھی۔</p>
<div id="attachment_11964" class="wp-caption alignleft" style="width: 227px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Azhar-Ali.jpg" rel="lightbox[11962]"><img class="size-medium wp-image-11964" title="اظہر علی نے کیریئر کی بہترین و یادگار ترین اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Azhar-Ali-217x300.jpg" alt="اظہر علی نے کیریئر کی بہترین و یادگار ترین اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)" width="217" height="300" /></a>
<p class="wp-caption-text">اظہر علی نے کیریئر کی بہترین و یادگار ترین اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)</p>
</div>
<p>یہ محض چند ماہ بعد دوسرا موقع ہے کہ کسی عالمی نمبر ایک ٹیم کو &#8216;کلین سویپ&#8217; کی ہزیمت سہنا پڑی ہو۔ گزشتہ سال اگست میں بھارت کو دورۂ انگلستان میں میزبان ٹیم کے ہاتھوں ایسی ہی تذلیل اٹھانی پڑی تھی لیکن اب خود انگلستان کو پاکستان کے ہاتھوں اسی وائٹ واش بلکہ اگر رائج نام اختیار کیا جائے تو &#8216;گرین واش&#8217; کو سہنا پڑا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عالمی درجہ بندی میں کوئی فرق رونما نہیں ہوا۔ پاکستان بدستور پانچویں نمبر پر ہے جبکہ انگلستان سرفہرست پوزیشن پر قابض ہے تاہم دونوں ٹیموں کے پوائنٹس میں نمایاں اضافہ و کمی ہوئی ہے۔</p>
<p>بہرحال، میچ کے چوتھے و آخری روز جب انگلستان نے 36 رنز بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے اننگز دوبارہ شروع کی تو ان کے سامنے ایک جان جوکھم میں ڈال دینے والا ہدف تھا کیونکہ ان کا سامنا تھا پاکستان کے ان اسپنرز نے جنہوں نے گزشتہ مقابلے میں انہیں صرف 72 پر ڈھیر کیا تھا۔ کپتان اینڈریو اسٹراس تو زیادہ دیر مزاحمت نہ کر پائے اور 26 رنز پر بنا کر عبد الرحمٰن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور ٹیم کا ایک ریویو بھی ضایع کرا گئے لیکن ایلسٹر کک، جنہیں پاکستانی فیلڈرز کے ہاتھوں دو مرتبہ زندگی مل چکی تھی، نئے ساتھی جوناتھن ٹراٹ کے ساتھ خطرناک ثابت ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن پاکستان نے کھانے کے وقفے سے قبل اس شراکت داری کو توڑ کر کچھ سکھ کا سانس لیا۔ جب ٹراٹ 18 رنز بنا کر سعید اجمل کا پہلا شکار بنے۔</p>
<p>پوری سیریز میں ناکام رہنے والے کیون پیٹرسن کچھ دیر تک کک کا ساتھ دینے میں کامیاب رہے لیکن سعید اجمل نے دو مسلسل اوورز میں پہلے کیون پیٹرسن کو ایک خوبصورت آف بریک گیند پر بولڈ اور کک کو یونس خان کے شاندار کیچ کی بدولت آؤٹ کرا کے میچ کو پاکستان کے حق میں کافی حد تک جھکا دیا۔ اب تک سیریز میں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہنے واے این بیل اور ایون مورگن کافی دیر جدوجہد کر کے بھی صرف 37 رنز کا اضافہ کر پائے اور عمر گل کے دو مسلسل اوورز میں بالترتیب 10 اور 31 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے اور یوں انگلستان کی موہوم سی امید کا بھی بھی خاتمہ ہو گیا۔</p>
<p>اسٹورٹ براڈ اور وکٹ کیپر میٹ پرائیر نے صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے تیز رفتار انداز سے کھیل کر پاکستانی باؤلرز کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی لیکن پرائیر کو دوسرے اینڈ سے بہت اچھی سپورٹ نہ مل سکی اور پاکستان نے بھی حالات کے پیش نظر &#8216;دیوار کے کمزور حصے&#8217; پر اپنا دباؤ برقرار رکھا اور بالآخر 252 کے مجموعے پر عبد الرحمن کے ہاتھوں مونٹی پنیسر کی وکٹ نے پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ میٹ پرائیر 58 گیندوں پر 49 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ دوسری اننگز میں سعید اجمل اور عمر گل نے 4،4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں عبد الرحمن کو ملیں۔</p>
<div id="attachment_11965" class="wp-caption alignleft" style="width: 233px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Ian-Bell.jpg" rel="lightbox[11962]"><img class="size-medium wp-image-11965" title="پاکستان کی عمدہ گیند بازی کے سامنے انگلش بلے باز کی کارکردگی ایسی ہی تھی کہ وہ منہ چھپاتے پھریں (تصویر: AFP)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Ian-Bell-223x300.jpg" alt="پاکستان کی عمدہ گیند بازی کے سامنے انگلش بلے باز کی کارکردگی ایسی ہی تھی کہ وہ منہ چھپاتے پھریں (تصویر: AFP)" width="223" height="300" /></a>
<p class="wp-caption-text">پاکستان کی عمدہ گیند بازی کے سامنے انگلش بلے باز کی کارکردگی ایسی ہی تھی کہ وہ منہ چھپاتے پھریں (تصویر: AFP)</p>
</div>
<p>اس تاریخی فتح کا میدان میں کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں نے زبردست جشن منایا۔ معروف سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر #greenwash #brownwash اور England 3-0 ٹرینڈنگ میں آئے۔</p>
<p>قبل ازیں پاکستان نے دوسری اننگز میں اظہر علی اور یونس خان کی یادگار کارکردگی کی بدولت 365 رنز کا زبردست مجموعہ اکٹھا کیا تھا۔ 28 رنز پر دونوں اوپنرز کو کھونے کے بعد تیسری وکٹ پر نوجوان و تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل اس جوڑی نے پاکستان کو نہ صرف مشکل صورتحال سے نکالا بلکہ ایک غالب پوزیشن پر لا کھڑا کر دیا۔ گو کہ پاکستان کی آخری 7 وکٹیں اسکور میں محض 34 رنز کا اضافہ کر پائیں، جو ایک مایوس کن امر تھا، لیکن مہمان ٹیم کو 324 رنز کا ہدف دیا جس کے لیے تاریخ شاہد تھی کہ انگلستان پاکستان کے خلاف چوتھی اننگز میں کبھی اتنا بڑا اسکور نہیں بنا پایا۔ انگلستان کی جانب سے مونٹی پنیسر ایک مرتبہ پھر کامیاب ترین باؤلر رہے جنہوں نے سیریز میں دوسری مرتبہ 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا جبکہ دوسرے اسپنر گریم سوان 3 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک، ایک وکٹ جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کو ملی۔</p>
<p>دوسری اننگز کی حوصلہ افزا کارکردگی سے قبل پاکستان کو میچ میں واپس لانے کا تمام تر سہرا عبد الرحمن اور سعید اجمل کے سر تھا جنہوں نے پہلی اننگز میں پاکستان کے 99 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے بعد انگلستان کو بڑی برتری حاصل کرنے سے روکے رکھا۔ دراصل پاکستان نے پہلی اننگز میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلش پیس بیٹری جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کی تباہ کن گیند بازی کے سامنے محض 99 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ وجہ صبح کے وقت کنڈیشنز کا تیز گیند بازوں کے حق میں ہونا اور اس پر طرّہ پاکستانی گیند بازوں کی غلط شاٹ سلیکشن اور جلد بازی۔ اندازہ لگائیے کہ پاکستان کے چھ بلے باز ایسے تھے جن کی اننگز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہو سکی۔ اگر اسد شفیق 45 رنز نہ بناتے تو عین ممکن تھا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہو جاتا۔ بہرحال اتنے کم اسکور پر آؤٹ ہونے کے بعد انلستاین کے حوصلے بہت بلند ہو گئے، جس کی جانب سے اینڈرسن نے 3 اور اسٹورٹ براڈ نے 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ پنیسر کو 2 اور سوان کو ایک وکٹ ملی۔ یہ بہت خطرناک صورتحال تھی، کیونکہ کرکٹ تاریخ شاہد ہے کہ گزشتہ 100 سے زائد سالوں میں کوئی ایسی ٹیم کامیاب نہیں ہوئی جو پہلی اننگز میں اسکور کو تہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچا پائی ہو لیکن پاکستان کے باؤلرز نے پہلی انگلش اننگز میں جس طرح حریف بلے بازوں کو دن میں تارے دکھا دیئے، یوں وہ پاکستان کو نہ صرف مقابلے میں واپس لے آئے بلکہ ان کی کارکردگی سے مہمیز پاتے ہوئے قومی بلے بازوں نے بھی دوسری اننگز میں ذمہ داری دکھائی اور پاکستان کو بالادست پوزیشن پر لے آئے۔</p>
<p>انگلستان کی پہلی اننگز میں سوائے اینڈریو اسٹراس کے 56 اور جوناتھن ٹراٹ کے 32 رنز کے کوئی بلے باز قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا اور پوری ٹیم 141 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ پچھلے میچ کے ہیرو عبد الرحمن نے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین وکٹیں سعید اجمل اور دو وکٹیں عمر گل نے حاصل کیں۔ جب پاکستان کے بعد انگلستان کا بھی ایسا حشر ہوا تو لگتا تھا کہ میچ ڈھائی تین روز ہی میں ختم ہو جائے گا کیونکہ ڈیڑھ دن سے بھی کم کے کھیل میں 20 وکٹیں گر چکی تھیں، لیکن پاکستانی بلے بازوں نے سمجھداری کا بھرپور مظاہرہ کیا اور پاکستان کو میچ میں واپس لے آئے۔</p>
<p>اس تاریخی سیریز میں جہاں اسپنرز کا راج رہا وہیں امپائرنگ بھی اپنے عروج پر رہی خصوصاً فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام نے انہیں کڑی آزمائش میں ڈالے رکھا لیکن فیصلے واپس لینے کا تناسب بہت کم رہا ، ساتھ ساتھ سیریز میں ریکارڈ 43 ایل بی ڈبلیوز امپائرز کی اعلیٰ اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے عکاس ہیں۔</p>
<p>اظہر علی 157 رنز کی فتح گر اننگز کھیلنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز 24 وکٹیں حاصل کرنے والے سعید اجمل کو دیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اگست 2010ء میں انگلستان کے خلاف &#8216;اسپاٹ فکسنگ&#8217; سے داغدار ہونے والی سیریز کے بعد سے اب تک کسی ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار نہیں ہوا گو کہ اس دوران اس کا مقابلہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے بعد اب عالمی نمبر ایک انگلستان سے بھی ہو چکا ہے۔ یہ اعلیٰ کارکردگی مصباح الحق کی زیر قیادت قومی ٹیم میں آنے والی شاندار تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہے خصوصاً اس سیریز میں ٹیم کی حوصلہ و ہمت نہ ہارنے کی صلاحیت نے کئی ماہرین کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 99 رنز پر آؤٹ ہو جانے کے باوجود پاکستان جس طرح میچ میں واپس آیا، وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی بلندیوں کا سفر شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><strong>پاکستان بمقابلہ انگلستان، تیسرا ٹیسٹ</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>3 تا 6 فروری 2012ء<br />
</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>بمقام: </strong>دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات</p>
<p style="text-align: center;"><strong>نتیجہ</strong>: پاکستان 71 رنز سے فتحیاب</p>
<p style="text-align: center;"><strong>میچ کے بہترین کھلاڑی</strong>: اظہر علی</p>
<p style="text-align: center;"><strong>سیریز کے بہترین کھلاڑی:</strong> سعید اجمل</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/pakistan.png" alt="پاکستان" width="48" height="35" />پہلی اننگز</th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>محمد حفیظ</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب براڈ</td>
<td>13</td>
<td>30</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>توفیق عمر</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن</td>
<td>0</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اظہر علی</td>
<td>ک پرائیر ب براڈ</td>
<td>1</td>
<td>14</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>یونس خان</td>
<td>ک پرائیر ب براڈ</td>
<td>4</td>
<td>8</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مصباح الحق</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن</td>
<td>1</td>
<td>8</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اسد شفیق</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>45</td>
<td>78</td>
<td>3</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عدنان اکمل</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب براڈ</td>
<td>6</td>
<td>30</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عبد الرحمن</td>
<td>ک پیٹرسن ب سوان</td>
<td>1</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سعید اجمل</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>12</td>
<td>53</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عمر گل</td>
<td>ب اینڈرسن</td>
<td>13</td>
<td>27</td>
<td>1</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>اعزاز چیمہ</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>0</td>
<td>7</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ل ب 3</td>
<td>3</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>44.1 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>99</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>انگلستان (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>جیمز اینڈرسن</td>
<td>14.1</td>
<td>3</td>
<td>35</td>
<td>3</td>
</tr>
<tr>
<td>اسٹورٹ براڈ</td>
<td>16</td>
<td>5</td>
<td>36</td>
<td>4</td>
</tr>
<tr>
<td>مونٹی پنیسر</td>
<td>13</td>
<td>4</td>
<td>25</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>گریم سوان</td>
<td>1</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
<td>1</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/england.png" alt="انگلستان" width="48" height="35" />پہلی اننگز</th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>اینڈریو اسٹراس</td>
<td>اسٹمپ عدنان ب عبد الرحمن</td>
<td>56</td>
<td>150</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ایلسٹر کک</td>
<td>ک عدنان ب عمر گل</td>
<td>1</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>جوناتھن ٹراٹ</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب عمر گل</td>
<td>2</td>
<td>10</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>کیون پیٹرسن</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن</td>
<td>32</td>
<td>44</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>این بیل</td>
<td>اسٹمپ عدنان ب سعید اجمل</td>
<td>5</td>
<td>28</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ایون مورگن</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن</td>
<td>10</td>
<td>14</td>
<td>0</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>میٹ پرائیر</td>
<td>ب عبد الرحمن</td>
<td>6</td>
<td>19</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>جیمز اینڈرسن</td>
<td>ب عبدالرحمن</td>
<td>4</td>
<td>22</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اسٹورٹ براڈ</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل</td>
<td>4</td>
<td>19</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>گریم سوان</td>
<td>ک عبد الرحمن بو سعید اجمل</td>
<td>16</td>
<td>18</td>
<td>3</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مونٹی پنیسر</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>0</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ب 1، ل ب 4</td>
<td>5</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>55 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>141</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>پاکستان (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>عمر گل</td>
<td>7</td>
<td>1</td>
<td>28</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>اعزاز چیمہ</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
<td>9</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سعید اجمل</td>
<td>23</td>
<td>6</td>
<td>59</td>
<td>3</td>
</tr>
<tr>
<td>عبد الرحمن</td>
<td>21</td>
<td>4</td>
<td>40</td>
<td>5</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img class="alignnone" src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/pakistan.png" alt="پاکستان" width="48" height="35" />دوسری اننگز</th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>محمد حفیظ</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>21</td>
<td>36</td>
<td>3</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>توفیق عمر</td>
<td>ک اسٹراس ب اینڈرسن</td>
<td>6</td>
<td>16</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اظہر علی</td>
<td>ک کک ب سوان</td>
<td>157</td>
<td>442</td>
<td>10</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>یونس خان</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب براڈ</td>
<td>127</td>
<td>221</td>
<td>12</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>مصباح الحق</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>31</td>
<td>115</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اسد شفیق</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>5</td>
<td>17</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عدنان اکمل</td>
<td>ب پنیسر</td>
<td>0</td>
<td>7</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عبد الرحمن</td>
<td>ک اینڈرسن ب سوان</td>
<td>1</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سعید اجمل</td>
<td>ک اینڈرسن ب سوان</td>
<td>1</td>
<td>12</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عمر گل</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب پنیسر</td>
<td>4</td>
<td>38</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اعزاز چیمہ</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>2</td>
<td>8</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ب 10، ل ب 1، ن ب 1</td>
<td>12</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>152.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>365</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>انگلستان (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>جیمز اینڈرسن</td>
<td>28</td>
<td>7</td>
<td>51</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>اسٹورٹ براڈ</td>
<td>24</td>
<td>7</td>
<td>55</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>مونٹی پنیسر</td>
<td>56.4</td>
<td>13</td>
<td>124</td>
<td>5</td>
</tr>
<tr>
<td>گریم سوان</td>
<td>39</td>
<td>6</td>
<td>101</td>
<td>3</td>
</tr>
<tr>
<td>جوناتھن ٹراٹ</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
<td>14</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>کیون پیٹرسن</td>
<td>3</td>
<td>0</td>
<td>9</td>
<td>0</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img class="alignnone" src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/england.png" alt="انگلستان" width="48" height="35" />دوسری اننگز، ہدف 324 رنز</th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>اینڈریو اسٹراس</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن</td>
<td>26</td>
<td>76</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ایلسٹر کک</td>
<td>ک یونس ب سعید اجمل</td>
<td>49</td>
<td>187</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>جوناتھن ٹراٹ</td>
<td>ک عبد الرحمن ب سعید اجمل</td>
<td>18</td>
<td>64</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>کیون پیٹرسن</td>
<td>ب سعید اجمل</td>
<td>18</td>
<td>45</td>
<td>1</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>این بیل</td>
<td>ک اسد ب عمر گل</td>
<td>10</td>
<td>38</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ایون مورگن</td>
<td>ک عدنان ب عمر گل</td>
<td>31</td>
<td>48</td>
<td>3</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>میٹ پرائیر</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>49</td>
<td>58</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>اسٹورٹ براڈ</td>
<td>ک توفیق ب عمر گل</td>
<td>18</td>
<td>24</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>گریم سوان</td>
<td>ک اسد ب عمر گل</td>
<td>1</td>
<td>6</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>جیمز اینڈرسن</td>
<td>ک یونس ب سعید اجمل</td>
<td>9</td>
<td>26</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مونٹی پنیسر</td>
<td>ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن</td>
<td>8</td>
<td>15</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ب 4، ل ب 8، ن ب 3</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>97.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>252</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>پاکستان (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>عمر گل</td>
<td>20</td>
<td>5</td>
<td>61</td>
<td>4</td>
</tr>
<tr>
<td>اعزاز چیمہ</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
<td>9</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>محمد حفیظ</td>
<td>5</td>
<td>2</td>
<td>6</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>عبد الرحمن</td>
<td>41.3</td>
<td>10</td>
<td>97</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>سعید اجمل</td>
<td>27</td>
<td>9</td>
<td>67</td>
<td>4</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<h3 class='related_post_title'>مشابہ تحاریر:</h3>
<ul class='related_post'>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-eng-2012-second-test-report/' title='عالمی نمبر ایک انگلستان کو دوسری شکست؛ میچ و سیریز پاکستان کے نام'>عالمی نمبر ایک انگلستان کو دوسری شکست؛ میچ و سیریز پاکستان کے نام</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-eng-2012-negative-tactics-of-english-media-go-against-their-team-wasim-akram/' title='انگلش ذرائع ابلاغ کے اوچھے ہتھکنڈے نہیں چلیں گے، سعید اجمل کا حوصلہ مزید بلند ہوگا: وسیم اکرم'>انگلش ذرائع ابلاغ کے اوچھے ہتھکنڈے نہیں چلیں گے، سعید اجمل کا حوصلہ مزید بلند ہوگا: وسیم اکرم</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-eng-2012-first-test-report/' title='’بدلہ سیریز‘ کا پہلا ٹیسٹ، پاکستان نے صرف تین دن میں میدان مار لیا'>’بدلہ سیریز‘ کا پہلا ٹیسٹ، پاکستان نے صرف تین دن میں میدان مار لیا</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-eng-2012-misbah-ul-haq-first-talk-to-media-in-uae/' title='سعید اجمل اور عبدالرحمن انگلستان کے خلاف اہم ہتھیار ہوں گے: مصباح الحق'>سعید اجمل اور عبدالرحمن انگلستان کے خلاف اہم ہتھیار ہوں گے: مصباح الحق</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-sl-2011-second-test-report/' title='پانچ سال بعد پاکستان سری لنکا پر فتحیاب، سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل'>پانچ سال بعد پاکستان سری لنکا پر فتحیاب، سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://cricnama.com/pak-eng-2012-third-test-report/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جی ایکس 3 اردو سانچہ براے بلاگ سپاٹ ( G.X.3 Urdu Template )</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/MEpvEZj9rTs/3-gx3-urdu-template.html</link>
		<comments>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/MEpvEZj9rTs/3-gx3-urdu-template.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 13:47:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمد یاسر علی</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگ سپاٹ کے اردو سانچے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdublogz.com/?guid=53e96b65b39901bca9314045d41161eb</guid>
		<description><![CDATA[﷽




اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔












یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔



Download:
G.X.2 Urdu Templa...]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>﷽</p>
<p>اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔</p>
<p>یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>Download:<br />
G.X.2 Urdu Template for Blogspot / Blogger Urdu&#8230;<br/><br />
<br/><br />
مکمل تحریر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے برائے مہربانی محمد یاسر علی کی بیاض کا وزٹ کریں ۔ شکریہ<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/yasir5260/~4/MEpvEZj9rTs" height="1" width="1"/></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://yasir5260.blogspot.com/feeds/6915260745714908992/comments/default</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
<enclosure url="" length="" type="" />
		</item>
		<item>
		<title>قصر الزہرہ</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%D9%82%D8%B5%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%D9%82%D8%B5%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B2%DB%81%D8%B1%DB%81/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 11:40:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[آخرت]]></category>
		<category><![CDATA[جنت]]></category>
		<category><![CDATA[جنت کی نعمت]]></category>
		<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1311</guid>
		<description><![CDATA[عبد الرحمن ثالث اسپین کا ایک عظیم حکمران تھا۔وہ 300ھ میں اس وقت اقتدار میں آیا جب اسپین کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یورپ کی مسیحی طاقتوں کا نوالہ بننے والی تھی۔مگر نصف صدی کے اس کے اقتدار کے بعد350ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اسپین یا اندلس پورے یورپ سے زیادہ طاقتور [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&#38;blog=14095271&#38;post=1311&#38;subd=aqilkhans&#38;ref=&#38;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
عبد الرحمن ثالث اسپین کا ایک عظیم حکمران تھا۔وہ 300ھ میں اس وقت اقتدار میں آیا جب اسپین کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یورپ کی مسیحی طاقتوں کا نوالہ بننے والی تھی۔مگر نصف صدی کے اس کے اقتدار کے بعد350ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اسپین یا اندلس پورے یورپ سے زیادہ طاقتور اور دنیا کی خوشحال ترین ریاست بن چکی تھی اور یہاں مسلم اقتدار مزید500برس قائم رہا۔<span id="more-1311"></span></p>
<p>عبدالرحمن کے عہد میں اسپین عظمت اور ترقی کے جس مقام پر پہنچا اس کا ایک اظہار وہ محل ہے جو اس نے اپنی بیوی زہرہ کے لیے قرطبہ کے نزدیک بنوایا۔یہ محل جس کا نام قصر الزہرہ تھا،12مربع میل کے رقبے پر پھیلا ایک شہر جتنا وسیع تھا۔اس میں 15000بلند اور شاندار دروازے تھے۔اس کی تعمیر کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ تعمیری سامان منگوایا گیا اوربے دریغ سونا چاندی ، ہیرے جواہرات اور انتہائی شفاف سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا تھا۔دس ہزار معماروں نے دن رات کام کرکے اس محل کو 25برس میں مکمل کیا ۔ اس کے تعمیری حسن، صناعی اور دلکشی کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے تھے اور اپنے زمانے میں اس سے زیادہ بہتر تعمیر دنیا میں موجود نہ تھی۔مگراتفاق کی بات ہے کہ یہ محل جس برس مکمل ہوا اسی سال عبدالرحمن کا انتقال ہوگیا۔اس کی بیوی بھی نہ رہی اور جب مسیحیوں نے قرطبہ پر قبضہ کیا توقصر الزہرہ کا نام و نشان مٹادیا۔</p>
<p> خدا نے یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی ہے۔اس دنیا میں ایک طرف یہ مواقع ہیں کہ ایک تنہا انسان تاریخ کا دھارا موڑ دے اور قصر الزہرہ جیسا محل بناڈالے، دوسری طرف یہاں موت اور گردش زمانہ کی وہ رکاوٹیں ہیں جو انسان کے ہر کارنامے کو کھاجاتی ہیں۔یہ صرف آخرت کی دنیا ہے جہاں کی بادشاہی میں عظمت اور ابدیت ایک ساتھ جمع ہوجاتی ہیں۔یہ دنیااصل میں اُس آنے والی بادشاہی کوحاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔جس شخص نے ایمان، صبر اور عمل صالح کی مدد سے اس موقع کا فائدہ اٹھایااصل میں وہی آزمائش کی یہ بازی جیت گیا۔ باقی لوگوں کے حصے میں سوائے خسارے کے، کچھ نہیں آتا۔<br />
By ریحان احمد یوسفی</p>
<p>  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1311&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%d9%82%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d8%b2%db%81%d8%b1%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
<enclosure url="" length="" type="" />
		</item>
		<item>
		<title>قسمت اور ہم</title>
		<link>http://yaser.paigham.net/2012/02/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85/</link>
		<comments>http://yaser.paigham.net/2012/02/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 04:28:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>یاسر خوامخواہ جاپانی</dc:creator>
				<category><![CDATA[بدعت ، تماشہ ۔ دھوکے باز۔]]></category>
		<category><![CDATA[دل کا غبار]]></category>
		<category><![CDATA[عید میلاد النبی]]></category>
		<category><![CDATA[معا شرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://yaser.paigham.net/?p=1734</guid>
		<description><![CDATA[انسان اپنے ماضی کے دکھوں، ناکامیوں ، پریشانیوں ، پر ہی کڑھتا رہتا ہے۔ یہ دکھ پریشانیاں اسے مستقبل کیلئے بھی پریشان اور دکھی کردیتی ہیں۔۔ اور حال سے غافل کر دیتی ہیں۔یا انسان حال سے نظریں چرانا شروع ہو &#8230; <a href="http://yaser.paigham.net/2012/02/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85/"><br />مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں <span>&#8594;</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>انسان اپنے ماضی کے دکھوں،  ناکامیوں ، پریشانیوں ، پر ہی کڑھتا رہتا ہے۔<br />
یہ  دکھ پریشانیاں اسے مستقبل کیلئے بھی پریشان اور دکھی کردیتی ہیں۔۔<br />
 اور حال سے غافل کر دیتی ہیں۔یا انسان حال سے نظریں چرانا شروع ہو جاتا ہے۔<br />
ماضی سے انسان چھٹکارا نہیں پا سکتا، مستقبل کا حال اس خاکی کو معلوم نہیں۔</p>
<p>ماضی کی پریشانیاں اور مستقبل کے حال سے لاعلمی سے انسان کی زندگی منفی اثرات کا شکار ہو جاتی ہے۔<br />
انسان اس ماضی اور مستقبل کے گورکھ دھندے کو قسمت کا لکھا سمجھ لیتا ہے۔</p>
<p>بے شک ہمارے لئے اللہ تعالی نے سب کچھ طے کیا ہے ، اور ہمارے لئے ایک راہ متعین کی ہے۔<br />
کیا اس رحیم و کریم کی رحمت سے یہ بعید ہے ،کہ جو کچھ اس نے انسان کیلئے متعین کیا ہے ،وہ اس کے فائدے کیلئے نہیں؟<br />
اللہ نے انسان کی قسمت میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کے حصول کیلئے محنت کو وسیلہ بنایا ہے۔</p>
<p>قسمت کے اس مثبت نظریے کے ہماری زندگی پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔<br />
اس کے منفی اثرات کیا یہ نہیں ہیں ،<br />
کہ ہم قسمت کے لکھے گورکھ دھندے میں الجھ کر ماضی اور مستقبل کی پریشانیوں میں الجھ کر ہم پست حوصلہ اور ہڈ حرام ہو جاتے ہیں؟</p>
<p>قسمت کا خالق تو کہتا ہے۔<br />
لیس الانسان الا ماسعی(سورہ النجم آیت 39)<br />
(انسان کیلئے کچھ نہیں سوائے اس کے جس کی اس نے کوشش کی)<br />
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ماضی میں جیتے ہیں اور حال سے نظریں چراتے ہیں۔<br />
مستقبل کی پیش بندی کا ہمیں بتا دیا گیا۔لیکن ہمیں مستقبل کا یقین نہیں۔<br />
 جلسے جلوس مجلسیں ،ماتم کرکے ہم مستقبل کا خوف دور کررہے ہیں،<br />
اور حال کو قسمت کا کیا دھرا کہہ کر ہڈ حرامی کر رہے ہیں۔</p>
<p>اگر ہمارا  اللہ پر  یقین ہوتو ہم اپنے حال کو بدلنے کا سوچیں، ہم اپنے اخلاق ، اپنے معاملات اچھے کریں ،<br />
تاکہ ہمارا معاشرہ انسانوں کے رہنے کیلئے مثالی ہو۔</p>
<p>حدیث قدسی ہے۔<br />
اللہ تعالی فرماتا ہے۔کہ میں اپنے بندے کے گمان میں رہتا ہوں۔ وہ میرے بارے میں جیسا سوچتا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔</p>
<p>اللہ تو ہمارے نماز روزے سے بے نیاز ہے۔<br />
اس نے نبی ، پیغمبر ، اہل علم ہماری فلاح کیلئے اس دنیا میں بھیجے ۔<br />
تاکہ ہمارے اخلاق ، ہمارے معاملات ، ہماری معاشرت اچھی ہو جائے۔<br />
 اور ہم فلاح پانے والے ہو جائیں۔</p>
<p>اللہ ہمارے جلسوں ، ہمارے جلوسوں ، ہماری مجلسوں ، ہمارے ماتموں ، ہمارے بھنگڑوں  ،ہمارے نعروں سے بے نیاز ہے۔<br />
اسے کوئی غرض نہیں کہ ہم اپنے دل کو کیا کرکے تسکین دیتے ہیں۔</p>
<p>اس نے ہمارے اخلاق ، ہمارے معاملات ، ہماری معاشرت کا ہم سے پو چھنا ہے۔ اس نے پو چھنا ہے ،<br />
یہ افرتفری ، یہ نفسانفسی ، یہ فساد العرض کا معاشرہ جاہل انسانوں تم نے کیوں تخلیق کیا؟</p>
<p>قدرت کی سزا معاشرے کیلئے یہی ہوتی ہے کہ وہ کھڑکیاں، دروازے ،دریچے بند کر دیتا ہے۔<br />
یہ کھڑکیاں، دروازے ،دریچے ہمارے تعمیر کئے ہوئے محلات کے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔<br />
یہ علم وعقل کے  ہوتے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://yaser.paigham.net/2012/02/%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شکریہ</title>
		<link>http://urduonline.blogspot.com/2012/02/blog-post.html</link>
		<comments>http://urduonline.blogspot.com/2012/02/blog-post.html#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 22:43:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Raja Iftikhar Khan</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسپین]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[سفریات]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرتی تغیرات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdublogz.com/?guid=5eb0069f83cf5947337f1a6984659f04</guid>
		<description><![CDATA[




یہ نیا سانچہ لگایا ہے تو&#160;جس بندے نے&#160;بنایا ہے اس کا شکریہ تو بنتا ہے کہ نہیں&#160;

ویسے شکریہ ادا کرنے کا رواج صرف پاکستان اور اٹلی میں ہ...]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: right;">
</div>
<div align="right" style="margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0cm; margin-right: 0cm; margin-top: 0cm;">
<span style="background-color: white;"><br /></span></p>
<div align="right" class="MsoNormal" style="background-attachment: initial; background-clip: initial; background-image: initial; background-origin: initial; line-height: 18.75pt; margin-bottom: 0.0001pt;">
<span style="background-color: white;"><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">یہ نیا سانچہ لگایا ہے تو</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;"><a href="http://yasir5260.blogspot.com/search/label/%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF%20%D8%B3%D9%BE%D8%A7%D9%B9%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88%20%D8%B3%D8%A7%D9%86%DA%86%DB%92"><span style="color: #0299c5; text-decoration: none;">جس بندے نے&nbsp;</span></a>بنایا ہے اس کا شکریہ تو بنتا ہے کہ نہیں</span><span dir="LTR"></span><span style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;"><span dir="LTR"></span>&nbsp;</span><span style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 12pt;"><o:p></o:p></span></span></div>
<div align="right" class="MsoNormal" style="background-attachment: initial; background-clip: initial; background-image: initial; background-origin: initial; line-height: 18.75pt; margin-bottom: 0.0001pt;">
<span style="background-color: white;"><i><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">ویس</span></i><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">ے شکریہ ادا کرنے کا رواج صرف پاکستان اور اٹلی میں ہی<br />
نہین</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><i><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;ہے</span></i><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">ورنہ دیگر ممالک میں تو<br />
شکریہ کی لائین لگا دیتے ہیں، اٹلی میں چلیں پھر بھی کوئی نہ کوئی گراتسے کہہ کر<br />
ٹل جاتا ہے مگراسپین جاتے ہوئے بعذریہ کار فرانس میں اس کا بہت تجربہ ہوا، فرانس<br />
کا ہمارا کل</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;تجربہ</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;"><a href="http://www.google.it/search?q=costa+azzurra&amp;hl=it&amp;prmd=imvns&amp;source=lnms&amp;tbm=isch&amp;ei=jAgvT5GEEuni4QT3usGaDg&amp;sa=X&amp;oi=mode_link&amp;ct=mode&amp;cd=2&amp;sqi=2&amp;ved=0CDAQ_AUoAQ&amp;biw=1024&amp;bih=677#hl=it&amp;tbm=isch&amp;q=costa+azzurra+francia&amp;revid=1873755848&amp;sa=X&amp;ei=kggvT_rvJOSB4ATG5PGZDg&amp;ved=0CDwQ1QIoAA&amp;bav=on.2,or.r_gc.r_pw.r_cp.,cf.osb&amp;fp=591f411fe49b0edf&amp;biw=1024&amp;bih=677"><span style="color: #0299c5; text-decoration: none;">نیلے ساحل</span></a></span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">سے گزرتے ہوئے موٹر وے کا ہے&nbsp;جونیس ، &nbsp;<br />
&nbsp;لیون اور ماونٹ پلئر سے ہوتا ہوا اسپین کو جاتا ہے، موٹر وے نے خیر کدھر<br />
جانا تھا، ابھی بھی ادھر ہی ہے، جانا ہم کو تھا اور دوجے دن واپس بھی آنا تھا،<br />
فرانس میں ایک پنگا یہ تھا کہ موٹر وے پر ہرضلع کی حدود ختم ہونے پر ادائیگی،بلکل<br />
پاکستانی نظام، کدھر دو یورو اور کدھر ڈھیڑ، بس جی آپ رکے اور ایک مسکراتی ہوئی<br />
حسینہ باہر مونڈی نکال کو سلام کرتی پائیں، لگتا کہ بس ہم پر ڈل مر ہی گئی ہے،<br />
اچھا تو اٹلی سے آئے ہو ؟اچھا</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;توکارڈ دے دو؟ مہر بانی ہوگی، آپ سوچتے رہیں کہ<br />
ٹول کارڈ تو دینا ہی ہے مہربانی جانے کدھر سے آگئی، آپ نے کارڈ دیا ،&nbsp;اس نے<br />
شکریہ ادا کیا، ٹک کرکے ، &nbsp;اور ساتھ ہی آپ کو بل بھی بتا دیا، &nbsp;آپ نے<br />
پانچ یورو کا نوٹ تھما دیا، &nbsp; اسکا کا میسی&nbsp;مطلب شکریہ کہنا</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;اور بقایا لوٹا نا</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;اور پھر شکریہ کہ<br />
آپ نے بقایا قبول کرلیا ، کوئی پوچھے بندی کوئی اپنا بقایا بھی چھوڑ تا ہے کہ اور<br />
وہ بھی ہم پاکستانی ، لینے &nbsp; تو کبھی نہ چھوڑ ، دینے دیں یا نہیں ، پھر آپ کو<br />
سفر بخیر کہنا اور آپ کا جواباُ شکریہ کہنے پر بھی آپ کا شکریہ،</span><span dir="LTR"></span><span style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;"><span dir="LTR"></span>&nbsp;&nbsp;</span><span style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 12pt;"><o:p></o:p></span></span></div>
<div align="right" class="MsoNormal" style="background-attachment: initial; background-clip: initial; background-image: initial; background-origin: initial; line-height: 18.75pt; margin-bottom: 0.0001pt;">
<span style="background-color: white;"><br /></span></div>
<div align="right" class="MsoNormal" style="background-attachment: initial; background-clip: initial; background-image: initial; background-origin: initial; line-height: 18.75pt; margin-bottom: 0.0001pt;">
<span style="background-color: white;"><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">ادھر اسپین پنچنے تک</span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;">&nbsp;</span></span><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 13.5pt;"><span style="background-color: white;">&nbsp;ہمارے منہہ سے بھی میسی اور میسی بکو نکل رہا تھا، شاید عادی ہو چکے تھے<br />
واپسی پر بھی وہی حشر مگراٹلی پہنچ کر پھر وہی نمک کی کان میں نمک ہوگیا بس</span></span><span style="background-color: #2f2f2f; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 12pt;"><o:p></o:p></span></div>
</div>
<div class="blogger-post-footer"><img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/10396460-6800774221479295005?l=urduonline.blogspot.com' alt='' /></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduonline.blogspot.com/feeds/6800774221479295005/comments/default</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>[اعداد و شمار] انگلستان و پاکستان، 300 اور زائد رنز کے ہدف کی تاریخ</title>
		<link>http://cricnama.com/statistics-a-historic-summary-of-english-chase-of-more-than-300-runs/</link>
		<comments>http://cricnama.com/statistics-a-historic-summary-of-english-chase-of-more-than-300-runs/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 19:15:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[انگلستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان انگلستان 2012ء]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://cricnama.com/?p=11927</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان اور انگلستان کے درمیان متحدہ عرب امارات میں جاری ایک یادگار سیریز کا تیسرا و حتمی ٹیسٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں عالمی نمبر ایک انگلستان کو میچ جیتنے، اپنی عزت بچانے، کے لیے 324 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی تمام وکٹیں اور دو دن کا کھیل باقی ہے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان اور انگلستان کے درمیان متحدہ عرب امارات میں جاری ایک یادگار سیریز کا تیسرا و حتمی ٹیسٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں عالمی نمبر ایک انگلستان کو میچ جیتنے، اپنی عزت بچانے، کے لیے 324 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی تمام وکٹیں اور دو دن کا کھیل باقی ہے۔</p>
<div id="attachment_11559" class="wp-caption alignleft" style="width: 250px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/01/Strauss-Cook-Alastair-Cook.jpg" rel="lightbox[11927]"><img class="size-medium wp-image-11559" title="انگلستان کا بیڑہ پار کرنے کی بنیادی ذمہ داری اوپنرز ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس پر عائد ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس سے عہدہ برآ ہوتے ہیں (فائل فوٹو)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/01/Strauss-Cook-Alastair-Cook-240x300.jpg" alt="انگلستان کا بیڑہ پار کرنے کی بنیادی ذمہ داری اوپنرز ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس پر عائد ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس سے عہدہ برآ ہوتے ہیں (فائل فوٹو)" width="240" height="300" /></a>
<p class="wp-caption-text">انگلستان کا بیڑہ پار کرنے کی بنیادی ذمہ داری اوپنرز ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس پر عائد ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس سے عہدہ برآ ہوتے ہیں (فائل فوٹو)</p>
</div>
<p>پہلی اننگز میں محض 99 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے بعد پاکستان کو مضبوط تر پوزیشن پر لانے کا سہرا اظہر علی کی 157 رنز کی یادگار اننگز اور ’مرد آہن‘ یونس خان کے 127 رنز کے سر ہے، جس کی بدولت پاکستان نے دوسری اننگز میں 365 رنز بنائے اور انگلستان کو ایک ایسا ہدف دیا ہے جو پاکستان کے خلاف انگلستان نے آج تک حاصل نہیں کیا۔ جی ہاں! تاریخ ثابت کرتی ہے کہ انگلستان پاکستان کے خلاف کبھی 300 رنز سے زائد کا ہدف حاصل نہیں کر پایا۔ اس لیے انگلش بلے بازوں کو ریکارڈ ساز کارکردگی دکھانا ہوگی، تب کہیں جا کر وہ کسی حد تک اپنی عزت بحال کر پائے گا کیونکہ سیریز میں تو وہ پہلے ہی 2-0 سے شکست کھا چکا ہے اور اگر پاکستان آخری ٹیسٹ بھی جیتنے میں کامیاب ہو گیا تو اسے کلین سویپ کی ذلت سہنا پڑے گی۔ اگر انگلستان شکست سے بچنے میں کامیاب نہ ہوا تو 2006-07ء کی ایشیز سیریز کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ انگلستان کسی بھی سیریز کے تمام مقابلے ہار جائے۔</p>
<p>پاکستان کے خلاف انگلستان کا حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف 219 رنز ہے جو اس نے اگست 1982ء میں لیڈز ٹیسٹ میں بنایا تھا اور اس تک پہنچنے میں بھی انگلستان نے 7 وکٹیں گنوائی تھیں۔ درحقیقت پاکستان یہ مقابلہ دوسری اننگز میں بلے بازوں کی ناقص کارکردگی اور پھر گریم فاؤلر کی 86 رنز کی شاندار اننگز کی وجہ سے ہارا۔</p>
<p>اس ٹیسٹ کے علاوہ صرف ایک موقع ایسا آیا ہے جب انگلستان پاکستان کے خلاف ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 200 کے ہندسے کو عبور کر پایا ہو۔ اکتوبر 1961ء میں لاہور ٹیسٹ میں انگلستان نے 209 رنز بنا کر مقابلہ اپنے نام کیا تھا۔ اس میچ کی کہانی بھی تقریباً مذکورہ بالا ٹیسٹ جیسی ہی ہے جہاں پاکستانی بلے باز دوسری اننگز میں اچھی کارکردگی نہ دکھاپائے اور انگلستان نے ٹیڈ ڈیکسٹر کی 66 رنز کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت فتح پا لی۔ اس مقابلے کی خاص بات انگلش بلے بازوں کی تیز رفتاری تھی جنہوں نے وکٹیں گرنے کے باوجود ہدف کے تعاقب میں ہمت نہ ہاری اور بالآخر 59 ویں اوور میں ہدف کو جا لیا۔</p>
<p>ان دو مواقع کے علاوہ انگلستان پاکستان کے خلاف 300 تو کجا 200 رنز کا ہدف بھی حاصل نہیں کر پایا۔ اگر اس تاریخی حقیقت اور انگلستان کے بلے بازوں کی سیریز میں حالیہ کارکردگی کو ذہن میں رکھا جائے تو میچ میں اس کی واپسی کے امکانات کم نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں آخری گیند تک کچھ نہیں کہا جا سکتا اور انگلستان کی لائن اپ، جو اس سیریز سے قبل بلاشبہ خود کو دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن اپ تسلیم کروا چکی ہے، سے کچھ بعید نہیں کہ وہ دبئی میں پاکستان کی ناقابل شکست رہنے کی روایت کا خاتمہ کر دے۔</p>
<p>پاکستان کے علاوہ دیگر ٹیموں کے خلاف بھی انگلستان نے 300 رنز سے زائد کا ہدف شاذ و نادر ہی حاصل کیا ہے۔ سب سے بڑا ہدف جو انگلستان نے چوتھی اننگز میں حاصل کیا ہے وہ 332 رنز کا ہے جو دسمبر 1928ء میں آسٹریلیا کے خلاف ملبورن ٹیسٹ میں بنایا گیا تھا۔</p>
<p>300 رنز سے زائد کا ہدف حاصل کرنے کا دوسرا موقع فروری 1997ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں پیش آیا۔ یہ مقابلہ اس لحاظ سے یادگار تھا کہ اس میں مائیکل ایتھرٹن کی سنچری اننگز کے ساتھ ساتھ لوئر آرڈر نے بھی بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ جان کرالی اور ڈومینک کارک نے 6 وکٹیں گر جانے کے باوجود ہدف کی جانب پیشقدمی بھرپور انداز میں جاری رکھیں اور ساتویں وکٹ پر 76 رنز کا اضافہ کیا اور 305 رنز کا ہدف حاصل کر کے انگلستان کو سیریز بھی جتوا دی۔</p>
<div id="attachment_11932" class="wp-caption alignleft" style="width: 310px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Mark-Butcher.jpg" rel="lightbox[11927]"><img class="size-medium wp-image-11932 " title="173 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر اننگز: مارک بچر ضرور رکی پونٹنگ کے ناپسندیدہ ترین کھلاڑی ہوں گے (تصویر: Paul McGregor)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Mark-Butcher-300x291.jpg" alt="173 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر اننگز: مارک بچر ضرور رکی پونٹنگ کے ناپسندیدہ ترین کھلاڑی ہوں گے (تصویر: Paul McGregor)" width="300" height="291" /></a>
<p class="wp-caption-text">173 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر اننگز: مارک بچر ضرور رکی پونٹنگ کے ناپسندیدہ ترین کھلاڑی ہوں گے (تصویر: Paul McGregor)</p>
</div>
<p>آخری مرتبہ انگلش سائیڈ نے ایشیز 2001ء کے چوتھے و آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف لیڈز ٹیسٹ میں 315 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ یہ مقابلہ آسٹریلیا کے لیے ایک بھیانک خواب تھا کیونکہ سیریز کے اولین تینوں مقابلے جیتنے کے بعد ان کا اعتماد آسمان پر تھااور یہی حد سے زیادہ خود اعتمادی انہیں لے ڈوبی۔ پہلی اننگز میں انگلستان پر 138 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنانا ہی کافی سمجھا اور انگلستان کو 315 رنز کا ہدف دے کر ڈھیلے پڑ گئے کہ وہ اتنے رنز بنا ہی نہیں پائے گا۔ لیکن مارک بچر نے کیریئر کی سب سے بہترین اور بلاشبہ یادگار ترین اننگز کھیلی اور 173 رنز پر ناقابل شکست رہے اور محض چار وکٹوں کے نقصان پر انگلستان نے اسکور پورا کر کے پونٹنگ کو سبق سکھا دیا کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کتنی بڑی ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>بہرحال، اگر پاکستان کے خلاف 300 سے زائد کے ہدف حاصل کرنے کے اعداد و شمار جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج تک صرف تین ٹیمیں ہی یہ اعزاز حاصل کرنے کامیاب ہو پائی ہیں۔ پہلی بار مارچ 1958ء میں دورۂ ویسٹ انڈیز میں میزبان ٹیم نے جارج ٹاؤن ٹیسٹ میں 317 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ یہ پاکستان کا پہلا دورۂ ویسٹ انڈیز تھا جس میں پہلے ٹیسٹ میں حنیف محمد کی یادگار ٹرپل سنچری کے قومی کرکٹ ٹیم کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پائی تھی اور باقی تمام مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے 1994ء کے کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں 324 رنز کا ہدف محض 5 وکٹوں پر حاصل کیا تھا۔ سیریز کا یہ تیسرا ٹیسٹ تھا اور پاکستان پہلے ہی اولین دونوں مقابلے جیت چکا تھا لیکن یہاں سلیم ملک سے وہی حرکت سرزد ہوئی جو ایشیز 2001ء میں رکی پونٹنگ سے ہوئی۔ یعنی کہ پہلی اننگز میں 144 رنز کی برتری لینے کے بعد دوسری اننگز میں 179 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کو 324 رنز کا ہدف دیا جو اس نے برائن ینگ اور شین تھامسن کی 120، 120 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت محض 5 وکٹوں پر حاصل کر لیا۔ یہ نوجوان تھامسن کے کیریئر کی اعلی و یادگار ترین اننگز تھی۔</p>
<div id="attachment_11929" class="wp-caption alignleft" style="width: 310px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Justin-Langer-and-Adam-Gilchrist.jpg" rel="lightbox[11927]"><img class="size-medium wp-image-11929" title="پاکستان ہر گز یہ منظر نہيں دیکھنا چاہے گا۔ ایڈم گلکرسٹ اور جسٹن لینگر تاریخ ساز کارکردگی کے بعد پاکستان کے خلاف فتح پر مسرور (تصویر: Getty Images)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Justin-Langer-and-Adam-Gilchrist-300x205.jpg" alt="پاکستان ہر گز یہ منظر نہيں دیکھنا چاہے گا۔ ایڈم گلکرسٹ اور جسٹن لینگر تاریخ ساز کارکردگی کے بعد پاکستان کے خلاف فتح پر مسرور (تصویر: Getty Images)" width="300" height="205" /></a>
<p class="wp-caption-text">پاکستان ہر گز یہ منظر نہيں دیکھنا چاہے گا۔ ایڈم گلکرسٹ اور جسٹن لینگر تاریخ ساز کارکردگی کے بعد پاکستان کے خلاف فتح پر مسرور (تصویر: Getty Images)</p>
</div>
<p>آخری مرتبہ نومبر 1999ء میں آسٹریلیا نے ہوبارٹ ٹیسٹ میں 369 رنز کا ہدف حاصل کر کے پاکستان کو تاریخی شکست دی تھی۔ یہ مقابلہ آسٹریلیا نے وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی بہترین بلے بازی کی بدولت جیتا جنہوں نے ایسے موقع پر، جب 369 رنز کے تعاقب میں 126 پر آسٹریلیا کی 5 وکٹیں گر چکی تھیں، جسٹن لینگر کے ساتھ مل کر فتح گر شراکت داری قائم کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ پر 238 رنز جوڑے۔ وہ بھی ایسے باؤلنگ اٹیک کے خلاف جس میں وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے علاوہ ثقلین مشتاق بھی شامل تھے۔ پاکستان کے لیے یہ میچ ایک ناخوشگوار ترین یادگار ہے۔ گلکرسٹ نے محض 163 گیندوں 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 149 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے جبکہ جسٹن لینگر 127 رنز بنا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب آسٹریلیا فتح سے محض پانچ رنز کے فاصلے پر تھا۔</p>
<p>ان تمام تاریخی حوالوں کے بعد سب سے اہم بات، اگر پاکستان یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ ایک اور لحاظ سے بہت تاریخی موقع ہوگا کیونکہ گزشتہ 105 سالوں میں ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ٹیم پہلی اننگز میں 100 رنز بنانے میں بھی کامیاب نہ ہوئی ہو لیکن میچ جیت گئی ہو۔ آخری مرتبہ 1907ء میں انگلستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔</p>
<p style="text-align: center;">
<iframe src="http://www.youtube.com/embed/5m_GikAlP9o?rel=0" frameborder="0" width="420" height="315"></iframe>
</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ دبئی میں چوتھے روز میچ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ فی الحال پچ کی حالت اور انگلش بلے بازوں کی فارم کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ میچ میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔</p>
<h3 class='related_post_title'>مشابہ تحاریر:</h3>
<ul class='related_post'>
<li><a href='http://cricnama.com/pak-eng-2012-third-test-report/' title='گرین واش: پاکستان 3، انگلستان 0'>گرین واش: پاکستان 3، انگلستان 0</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/records-double-century-partnerships-of-pakistani-batsmen-against-england/' title='[ریکارڈز] انگلستان کے خلاف پاکستانی بلے بازوں کی ڈبل سنچری شراکت داریاں'>[ریکارڈز] انگلستان کے خلاف پاکستانی بلے بازوں کی ڈبل سنچری شراکت داریاں</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/statistics-pakistan-first-innings-lower-than-100-means-a-defeat/' title='[اعداد و شمار] پہلی اننگز میں 100 سے کم رنز، پاکستان کے لیے شکست کا پروانہ'>[اعداد و شمار] پہلی اننگز میں 100 سے کم رنز، پاکستان کے لیے شکست کا پروانہ</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/from-multan-2005-to-abu-dhabi-2012/' title='ملتان سے ابوظہبی تک! '>ملتان سے ابوظہبی تک! </a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/records-lowest-scores-by-england-in-test/' title='[ریکارڈز] انگلستان کی تاریخ کے کم ترین مجموعے'>[ریکارڈز] انگلستان کی تاریخ کے کم ترین مجموعے</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://cricnama.com/statistics-a-historic-summary-of-english-chase-of-more-than-300-runs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جی ایکس 2 اردو سانچہ براے بلاگ سپاٹ ( G.X.2 Urdu Template )</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/lq8BO3-J8B0/2-gx2-urdu-template.html</link>
		<comments>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/lq8BO3-J8B0/2-gx2-urdu-template.html#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 19:10:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمد یاسر علی</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگ سپاٹ کے اردو سانچے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogz.com/?guid=7c140e9bb0a7005720f32603566a88fc</guid>
		<description><![CDATA[﷽



اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔ 







یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔



Download:

G.X.2 Urdu Template f...]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>﷽</p>
<p>اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔ </p>
<p>یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>Download:</p>
<p>G.X.2 Urdu Template for Blogspot / Blogger Urdu&#8230;<br/><br />
<br/><br />
مکمل تحریر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے برائے مہربانی محمد یاسر علی کی بیاض کا وزٹ کریں ۔ شکریہ<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/yasir5260/~4/lq8BO3-J8B0" height="1" width="1"/></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://yasir5260.blogspot.com/feeds/514071480443935287/comments/default</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
<enclosure url="" length="" type="" />
		</item>
		<item>
		<title>جی ایکس 2 اردو سانچہ براے بلاگ سپاٹ ( G.X.2 Urdu Template )</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/lq8BO3-J8B0/2-gx2-urdu-template.html</link>
		<comments>http://feedproxy.google.com/~r/yasir5260/~3/lq8BO3-J8B0/2-gx2-urdu-template.html#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 19:10:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمد یاسر علی</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگ سپاٹ کے اردو سانچے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdublogz.com/?guid=7c140e9bb0a7005720f32603566a88fc</guid>
		<description><![CDATA[﷽



اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔ 







یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔



Download:

G.X.2 Urdu Template f...]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>﷽</p>
<p>اس سانچہ میں اردو ایڈیٹر اور مراسلات کے خودکار خلاصہ کا نظام موجود ہے ۔ </p>
<p>یہ سانچہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>Download:</p>
<p>G.X.2 Urdu Template for Blogspot / Blogger Urdu&#8230;<br/><br />
<br/><br />
مکمل تحریر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے برائے مہربانی محمد یاسر علی کی بیاض کا وزٹ کریں ۔ شکریہ<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/yasir5260/~4/lq8BO3-J8B0" height="1" width="1"/></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://yasir5260.blogspot.com/feeds/514071480443935287/comments/default</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
<enclosure url="" length="" type="" />
		</item>
		<item>
		<title>سہ فریقی ٹورنامنٹ: پہلا مقابلہ آسٹریلیا کے نام، عالمی چیمپئن بھارت کو شکست</title>
		<link>http://cricnama.com/cb-series-2012-first-match-report/</link>
		<comments>http://cricnama.com/cb-series-2012-first-match-report/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 16:18:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[میتھیو ویڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ونے کمار]]></category>
		<category><![CDATA[کامن ویلتھ بینک سیریز 2012ء]]></category>
		<category><![CDATA[کلنٹ میک کے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://cricnama.com/?p=11912</guid>
		<description><![CDATA[سہ فریقی ٹورنامنٹ ’کامن ویلتھ بینک سیریز‘ کے بارش سے متاثرہ پہلے مقابلے میں آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی چیمپئن بھارت کو شکست دے دی۔ ٹاس جیت کر بھارت کا باؤلنگ کرنے کا فیصلہ اس وقت تک تو بہترین ثابت ہو رہا تھا جب تک بارش نہیں آئی۔ کیونکہ اس سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سہ فریقی ٹورنامنٹ ’کامن ویلتھ بینک سیریز‘ کے بارش سے متاثرہ پہلے مقابلے میں آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی چیمپئن بھارت کو شکست دے دی۔</p>
<p>ٹاس جیت کر بھارت کا باؤلنگ کرنے کا فیصلہ اس وقت تک تو بہترین ثابت ہو رہا تھا جب تک بارش نہیں آئی۔ کیونکہ اس سے قبل ونے کمار نے محض 19 کے مجموعے پر ڈیوڈ وارنر اور رکی پونٹنگ کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو زبردست دھچکے پہنچائے تھے لیکن 35 کے مجموعے پر بارش نے ملبورن کے تاریخی میدان کو آ لیااور 18 اوورز کا کھیل ضایع ہو گیااور دونوں ٹیموں کی اننگز کو 32، 32 اوورز تک محدود کر دیا گیا۔</p>
<div id="attachment_11913" class="wp-caption alignleft" style="width: 214px"><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Matthew-Wade1.jpg" rel="lightbox[11912]"><img class="size-medium wp-image-11913" title="اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2012/02/Matthew-Wade1-204x300.jpg" alt="اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)" width="204" height="300" /></a>
<p class="wp-caption-text">اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: Getty Images)</p>
</div>
<p>بارش کے خاتمے کے بعد جب مقابلہ دوبارہ شروع ہوا تو آسٹریلیا کو سنبھلنے کا موقع مل چکا تھا گو کہ وہ جلد ہی اپنے کپتان مائیکل کلارک سے محروم ہو گیا لیکن اپنے کیریئر کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے والے میتھیو ویڈ نے تجربہ کار مائیکل ہسی کے ساتھ مل کر اننگز کو درست طریق پر ڈالنے کا کام کیا اور دونوں نے انتہائی برق رفتاری سے رنز بنائے۔ دونوں کی شراکت میں آسٹریلیا نے محض 8 اوورز میں 73 رنز بنائے۔ ویڈ 69 گیندوں پر 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 67 رنز بنا کر پویلین لوٹے اور ذمہ داری ہسی برادران پر ڈال گئے، جنہیں دونوں نے خوب نبھایا۔ مائیکل ہسی 32 گیندوں پر 45 رنز بنانے کے بعد ونے کمار کا تیسرا و آخری نشانہ بنے۔ جبکہ ڈیوڈ ہسی نے یادگار ترین اننگز کھیلتے ہوئے میچ کو بھارت کی پہنچ سے کہیں دور کر دیا۔ انہوں نے صرف 30 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے اور یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا آخری 6 اوورز میں 62 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔</p>
<p>خصوصاً گزشتہ روز انڈین پریمیئر لیگ میں 2 ملین ڈالرز کی خطیر رقم میں ’بکنے‘ والے رویندر جدیجا کے ڈھائی اوورز میں 41 رنز سمیٹ کر آسٹریلیا نے انہیں اپنی حیثیت یاد دلا دی۔ اننگز کا 31 واں یعنی آخری اوور راہول شرما نے کیا، دو گیندیں پھینک چکے تو امپائرز کو احساس ہوا کہ قانون کے تحت صرف دو باؤلرز کو سات اوورز پھینکنے کی اجازت تھی جبکہ پروین اور ونے کمار 7، 7 اوورز پھینک چکے ہیں اس لیے راہول یہ اوور نہیں کر سکتے اس لیے انہیں دو گیندوں پر باؤلنگ سے ہٹا دیا گیا اور آخری چار گیندیں پھینکنے کے لیے دھونی نے رویندر جدیجا کو لانے کا فیصلہ کیا جن کا ڈیوڈ ہسی نے دو چھکوں کے ذریعے ’سواگت‘ کیا اور یوں اپنے چند اوورز میں ان کی خوب ’درگت‘ بنی۔</p>
<p>بھارت کی جانب نے ونے کمار نے 3 اور روہیت شرما اور راہول شرما نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔</p>
<p>جواب میں مچل اسٹارک کے ابتدائی حملوں اور بعد ازاں کلنٹ میک کے کی گیند بازی بھارت کے بلے بازوں کو لاجواب کر گئی۔ اسٹارک نے اپنے پہلے ہی اوور میں سچن ٹنڈولکر اور دوسرے اوور میں گوتم گمبھیر کو پویلین کا راستہ دکھا کر بھارت کو محض 13 رنز پر ہی اوپنرز سے محروم کر دیا۔</p>
<p>میچ کا فیصلہ کن اوور 12 واں تھا جس میں میک کے نے اپنے پہلے ہی اوور میں ویراٹ کوہلی اور روہیت شرما کے درمیان نہ صرف 51 رنز کی شراکت کا خاتمہ کیا بلکہ ایک گیند کے وقفے سے دونوں بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا کر بھارت کو سخت مشکل میں ڈال دیا۔ کوہلی سب سے زيادہ 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ روہیت شرما نے 21 رنز بنائے۔ آنے والے بلے بازوں میں کپتان مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ کوئی کھلاڑی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ بھارت کے زوال میں باؤلنگ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کی برتر فیلڈنگ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ رکی پونٹنگ کے دو خوبصورت کیچز اور پہلا ایک روزہ کھیلنے والے ڈینیل کرسچن کی زبردست فیلڈنگ کے بعد روی چندر آشون کا رن آؤٹ اس مقابلے کی اہم ترین جھلکیاں تھیں۔ پونٹنگ نے پہلے سچن اور بعد ازاں کوہلی کے زبردست کیچ لے کر بھارت کی جوابی اننگز کو پٹڑی سے اتارا۔ کپتان دھونی 29 رنز بنا کر بھارت کی گرنے والی نویں وکٹ بنے اور بعد ازاں اننگز 30 ویں اوور میں 151 رنز پر تمام ہوئی کیونکہ تمام کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔</p>
<p>آسٹریلیا کی جانب سے کلنٹ میک کے کی چار وکٹوں کے علاوہ دو، دو وکٹیں مچل اسٹارک اور زاویئر ڈوہرٹی نے حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ ڈینیل کرسچن کو ملی۔</p>
<p>میتھیو ویڈ کو کیریئر کے پہلے ہی ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے میں 67 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>
<p>سہ فریقی ٹورنامنٹ کا دوسرا میچ 8 فروری کو واکا، پرتھ میں سری لنکا اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں شریک ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف چار، چار میچز کھیلیں گی جو 8 مارچ تک جاری رہیں گے۔</p>
<p style="text-align: center;"><strong>آسٹریلیا بمقابلہ بھارت<br />
</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>کامن ویلتھ بینک سیریز، پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>5 فروری 2012ء</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>بمقام: </strong>ملبورن کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن، آسٹریلیا<strong><br />
</strong></p>
<p style="text-align: center;"><strong>نتیجہ</strong>: آسٹریلیا 65 رنز سے فتح یاب</p>
<p style="text-align: center;"><strong>میچ کے بہترین کھلاڑی</strong>: میتھیو ویڈ (آسٹریلیا)</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img class="alignnone" src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/australia.png" alt="آسٹریلیا" width="48" height="35" /></th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>میتھیو ویڈ</td>
<td>ب راہول شرما</td>
<td>67</td>
<td>69</td>
<td>4</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>ڈیوڈ وارنر</td>
<td>ب ونے کمار</td>
<td>6</td>
<td>14</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>رکی پونٹنگ</td>
<td>ک رینا ب ونے کمار</td>
<td>2</td>
<td>12</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مائیکل کلارک</td>
<td>ک راہول شرما ب روہیت شرما</td>
<td>10</td>
<td>21</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مائیکل ہسی</td>
<td>ک کوہلی ب ونے کمار</td>
<td>45</td>
<td>32</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ڈیوڈ ہسی</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>61</td>
<td>30</td>
<td>4</td>
<td>3</td>
</tr>
<tr>
<td>ڈینیل کرسچن</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>17</td>
<td>16</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ل ب 2، و 4، ن ب 2</td>
<td>8</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>32 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>216<br />
</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>بھارت (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>پروین کمار</td>
<td>7</td>
<td>0</td>
<td>35</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ونے کمار</td>
<td>7</td>
<td>0</td>
<td>21</td>
<td>3</td>
</tr>
<tr>
<td>ویراٹ کوہلی</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سریش رینا</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
<td>4</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>روی چندر آشون</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>48</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>روہیت شرما</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
<td>17</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>راہول شرما</td>
<td>6.2</td>
<td>0</td>
<td>44</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>رویندر جدیجا</td>
<td>2.4</td>
<td>0</td>
<td>41</td>
<td>0</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th colspan="2"><img class="alignnone" src="http://dl.dropbox.com/u/22696834/Flag-Icons/india.png" alt="بھارت" width="48" height="35" />ہدف: 217 رنز (32 اوورز میں)</th>
<th>رنز</th>
<th>گیندیں</th>
<th>چوکے</th>
<th>چھکے</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>گوتم گمبھیر</td>
<td>ک ویڈ ب اسٹارک</td>
<td>5</td>
<td>8</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سچن ٹنڈولکر</td>
<td>ک پونٹنگ ب اسٹارک</td>
<td>2</td>
<td>6</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ویراٹ کوہلی</td>
<td>ک پونٹنگ ب میک کے</td>
<td>31</td>
<td>34</td>
<td>3</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>روہیت شرما</td>
<td>ک ویڈ ب میک کے</td>
<td>21</td>
<td>21</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>سریش رینا</td>
<td>ک ڈیوڈ ہسی ب کرسچن</td>
<td>4</td>
<td>9</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مہندر سنگھ دھونی</td>
<td>ک وارنر ب ڈوہرٹی</td>
<td>29</td>
<td>38</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>رویندر جدیجا</td>
<td>ک مائیکل ہسی ب میک کے</td>
<td>19</td>
<td>25</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>روی چندر آشون</td>
<td>رن آؤٹ</td>
<td>5</td>
<td>3</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>راہول شرما</td>
<td>ب ڈوہرٹی</td>
<td>1</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>پروین کمار</td>
<td>ک ہیرس ب میک کے</td>
<td>15</td>
<td>17</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>ونے کمار</td>
<td>ناٹ آؤٹ</td>
<td>12</td>
<td>15</td>
<td>1</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>فاضل رنز</td>
<td>ل ب 2، و 5</td>
<td>7</td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tbody>
<tfoot>
<tr>
<td>مجموعہ</td>
<td>29.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر</td>
<td><strong>151</strong></td>
<td></td>
<td></td>
<td></td>
</tr>
</tfoot>
</table>
<p>&nbsp;</p>
<table class="easy-table-creator tablesorter" style="width: 100%;">
<thead>
<tr>
<th>آسٹریلیا (گیند بازی)</th>
<th>اوورز</th>
<th>میڈن</th>
<th>رنز</th>
<th>وکٹیں</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>ریان ہیرس</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>28</td>
<td>0</td>
</tr>
<tr>
<td>مچل اسٹارک</td>
<td>6</td>
<td>0</td>
<td>33</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>ڈینیل کرسچن</td>
<td>5</td>
<td>0</td>
<td>21</td>
<td>1</td>
</tr>
<tr>
<td>کلنٹ میک کے</td>
<td>4.4</td>
<td>0</td>
<td>20</td>
<td>4</td>
</tr>
<tr>
<td>زاویئر ڈوہرٹی</td>
<td>7</td>
<td>0</td>
<td>36</td>
<td>2</td>
</tr>
<tr>
<td>مائیکل کلارک</td>
<td>2</td>
<td>0</td>
<td>11</td>
<td>0</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<h3 class='related_post_title'>مشابہ تحاریر:</h3>
<ul class='related_post'>
<li><a href='http://cricnama.com/aus-ind-2011-12-first-t20i-report/' title='دورۂ آسٹریلیا: بھارتی شکستوں کا سلسلہ دراز، پہلا ٹی ٹوئنٹی بھی ہار گئے'>دورۂ آسٹریلیا: بھارتی شکستوں کا سلسلہ دراز، پہلا ٹی ٹوئنٹی بھی ہار گئے</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://cricnama.com/cb-series-2012-first-match-report/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>[آج کا دن] پاکستان کے سیاہ ترین ایام میں سے ایک</title>
		<link>http://cricnama.com/today-in-history-pakistani-trio-banned-by-icc/</link>
		<comments>http://cricnama.com/today-in-history-pakistani-trio-banned-by-icc/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 11:11:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسپاٹ فکسنگ]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان بٹ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد آصف]]></category>
		<category><![CDATA[محمد عامر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://cricnama.com/?p=11898</guid>
		<description><![CDATA[آج پاکستان کرکٹ کے سیاہ ترین ایام میں سے ایک ہے، جب بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اسپاٹ فکسنگ کے قضیے میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر طویل پابندیاں عائد کی تھیں۔ ٹھیک ایک سال قبل 5 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سلمان بٹ، محمد آصف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج پاکستان کرکٹ کے سیاہ ترین ایام میں سے ایک ہے، جب بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اسپاٹ فکسنگ کے قضیے میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر <a href="http://cricnama.com/butt-asif-amir-banned/%20">طویل پابندیاں عائد کی تھیں۔ </a></p>
<p><a href="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2011/11/butt-asif-majeed-amir.jpg" rel="lightbox[11898]"><img class="alignleft" src="http://cricnama.com/wp-content/uploads/2011/11/butt-asif-majeed-amir.jpg" alt="" width="227" height="357" /></a></p>
<p>ٹھیک ایک سال قبل 5 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر کم از کم پانچ سال کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سلمان بٹ اور محمد آصف پر بالترتیب 5 اور 2 سال کی اضافی پابندی بھی عائد کی گئی جو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد بد عنوانی کے پروگرام میں حصہ نہ لینے کی صورت میں ان پر لاگو ہوگی۔ لیکن کیونکہ <a href="http://cricnama.com/special-report-on-match-and-spot-fixing/">فکسنگ</a> کے معاملے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی کم از کم پابندی پانچ سال ہے اس لیے سب سے زیادہ نقصان نوجوان محمد عامر کو اٹھانا پڑا جو پانچ سال تک کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے۔</p>
<p>آئی سی سی کے مقرر کردہ خصوصی ٹریبونل کے مطابق تیز گیند بازوں محمد آصف اور محمد عامر دونوں پر 26 سے 29 اگست 2010ء تک لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کو نو بالز کرانے کا الزام ثابت ہوا اور اس حرکت میں اس وقت کے کپتان سلمان بٹ کے ان کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے کے بھرپور شواہد بھی ملے، اس لیے سلمان بٹ پر سب سے زیادہ 10 سال کی نااہلی کی پابندی عائد کی گئی جبکہ دیگر کھلاڑی اس کے مقابلے میں کم سزا کے حقدار قرار پائے۔ محمد عامر کو اپنی کم عمری، وہ اس وقت صرف 18 سال کے تھے، کے باعث کم از کم سزا دی گئی جو پانچ سال کی پابندی ہے۔ </p>
<p>مذکورہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کرانے کا معاملہ افشاء ہوتے ہی آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور ان پر کسی بھی سطح کی باضابطہ کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد تھی۔ یہ معاملہ برطانیہ کا ایک ’چٹخارہ‘ اخبار ”نیوز آف دی ورلڈ“ سامنے لایا تھا جس کے ایک صحافی مظہر محمود نے پاکستانی باؤلرز پر ایک سٹے باز مظہر مجید سے پیسے لے کر جان بوجھ کر نو بالز کرانے کا انکشاف کر کے تہلکہ مچا دیا تھا۔ </p>
<p>بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے ان پابندیوں کے بعد بعد ازاں، برطانیہ کی ایک عدالت نے تینوں کھلاڑیوں اور سٹے باز مظہر مجید پر فوجداری مقدمہ بھی چلایا جس کے تحت گزشتہ سال نومبر کے اوائل میں تینوں انہیں قید کی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا جن میں سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک اور محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ محمد عامر سزا کی تکمیل کے بعد اب <a href="http://cricnama.com/mohammad-amir-released-from-jail/">رہائی پا چکے ہیں </a>اور اس وقت کھیلوں کی بین الاقوامی ثالثی عدالت، سوئٹزرلینڈ میں فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے اپنے وکلا سے مشورے کر رہے ہیں۔ باقی دونوں کھلاڑی اس وقت بدستور قید خانے میں ہیں۔</p>
<p>یہ بلاشبہ پاکستان کرکٹ کے بھیانک ترین دنوں میں سے ایک تھا، فکسنگ کی باتیں ویسے تو گردش کرتی رہتی ہیں اور ماضی میں بھی کئی ممالک کے کھلاڑی ان حرکات میں ملوث پائے گئے لیکن اتنا سخت ایکشن کبھی نہیں لیا گیا تھا۔ بھارت میں اظہر الدین، اجے جدیجا، منوج پربھاکر، جنوبی افریقہ میں مائیکل ہسی، آسٹریلیا میں مارک ٹیلر اور شین وارن اور پاکستان میں وسیم اکرم، سلیم ملک اور دیگر کھلاڑیوں کو مختلف نوعیت کی پابندیوں اور جرمانے کیے گئے۔ پابندیوں کا نشانہ بننے والے بیشتر کھلاڑی ایسے تھے جن کا کیریئر ویسے ہی تمام ہو چکا تھا لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں پر طویل پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ انہیں قید جیسی بھیانک سزائیں بھی دی گئیں۔</p>
<h3 class='related_post_title'>مشابہ تحاریر:</h3>
<ul class='related_post'>
<li><a href='http://cricnama.com/special-report-on-match-and-spot-fixing/' title='میچ فکسنگ کی تاریخ &#8211; خصوصی تحریر'>میچ فکسنگ کی تاریخ &#8211; خصوصی تحریر</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/spot-fixing-hearing-in-london-court-twenty-second-day-jail-terms-for-all-defendants/' title='سلمان بٹ کو ڈھائی سال، آصف کو ایک سال اور عامر کو 6 ماہ قید کی سزا'>سلمان بٹ کو ڈھائی سال، آصف کو ایک سال اور عامر کو 6 ماہ قید کی سزا</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/spot-fixing-hearing-in-london-court-twenty-first-day/' title='اسپاٹ فکسنگ مقدمے کا سب سے ہنگامہ خیز دن، مظہر مجید کے انکشافات، عامر نئی مصیبت میں گرفتار'>اسپاٹ فکسنگ مقدمے کا سب سے ہنگامہ خیز دن، مظہر مجید کے انکشافات، عامر نئی مصیبت میں گرفتار</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/shame-pakistan-nation-cricket-fans/' title='پاکستانی قوم اور شائقین کرکٹ کا سر شرم سے جھک گیا'>پاکستانی قوم اور شائقین کرکٹ کا سر شرم سے جھک گیا</a></li>
<li><a href='http://cricnama.com/ex-pakistani-cricketers-and-officials-reaction-on-spot-fixing-trial-verdict/' title='پاکستان کرکٹ کے لیے سیاہ دن ہے: سابق کرکٹرز، عہدیداران'>پاکستان کرکٹ کے لیے سیاہ دن ہے: سابق کرکٹرز، عہدیداران</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://cricnama.com/today-in-history-pakistani-trio-banned-by-icc/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

