بلاگ ‘یاسر عمران مرزا’ کی تمام تحاریر

یاسر عمران - آن لائن عمدہ کوالٹی کا بار کوڈ بنانے کی ویب سائٹ

Feb
22

السلام علیکم

ویسے تو بار کوڈ جنریٹ کرنے کے لیے کئی سافٹ وئر موجود ہیں۔ کورل ڈرا میں بلٹن ان بار کوڈ کریئٹر موجود ہے۔ تاہم کسی وقت جلدی میں جب آپ کے پاس سافٹ وئر موجود نہ ہو اور آپ کو بار کوڈ بنانا پڑ جائے تو آپ اس ویب سائٹ کو استعمال کر کے کئی اقسام کے بار کوڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ نے یہ بار کوڈ کسی ڈیزائننگ کے کام میں استعمال کرنا ہو تو یہاں سے ہائی ریزولوشن کا بار کوڈ مختلف اقسام کی تصویری فائلز جیسے jpg, png, gif میں حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک 300 dpi کا بار کوڈ کسی بھی بروشر یا میگزین میں باآسانی شامل کیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں مختلف کمپنیوں کے آئی ڈی کارڈ میں بھی بار کوڈ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔  جو کہ اس ویب سائٹ کی ذریعے ممکن ہے۔ ویب سائٹ کا ایڈریس یہ رہا۔

http://barcode.tec-it.com

اس ویب سائٹ سے حاصل شدہ بار کوڈ کا ایک نمونہ

barcode

Filed under: Graphics Design, Urdu Tagged: bar code for designers, barcode, barcode generator, high quality bar code, high resolution bar code, online bar code, online bar code generator, آن لائن بار کوڈ بنائیں, انٹرنیٹ پر بار کوڈ, بار کوڈ حاصل کریں, عمدہ کوالٹی بار کوڈ

Comments Off

یاسر عمران - امریکی فوجیوں کی عظیم غیر ارادی طاقت

Dec
01

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل نے کہا ہے کہ ” مہمند ایجنسی میں ناٹو کے حملے کو ارادی تصور نہیں کرتے۔” اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیر ارادی طور پر امریکی ہیلی کاپٹر نے ٹیک آف کیا، غیر ارادی طور پر اس کا رخ پاکستان کی طرف ہوا، غیر ارادی طور پروہ پاکستانی دفاعی پوسٹ کے پاس پہنچا، غیر ارادی طور پر اس نے پوسٹ کا نشانہ لیا، غیر ارادی طور پر ھیلی کاپٹر میں بیٹھے فوجی کا ہاتھ بم کے بٹن سے لگ گیا اور بٹن دب گیا۔ بعد ازاں ھیلی کاپٹر کے ڈرائیور نے غلطی سے ھیلی کاپٹر دوسری چوکی کی طرف موڑا اور غیر ارادی طور پر ایک اور فائر کر دیا۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی فوجی تو دنیا میں سب سے زیادہ خطر ناک ہیں، کہیں غیر ارادی طور پر ان کے کسی جہاز کا رخ پینٹا گون یا وائٹ ہاؤس کی طرف ہو گیا، اور غیر ارادی طور پر وہاں پہنچنے کے بعد اس نے فائر کر دیا؟ پھر غیرارادی طور پر مزید دو چار فائر کر دیے تو یقیننا ایک بڑا نقصان ہو جائے گا۔ اسی طرح امریکی فوج کے پاس جو پچاس ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں ان میں سے چند ایک بموں کے آپریٹرز نے غیر ارادی طور پر چلا دیے تو امریکہ کا وجود تو خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے زیادہ خوفزدہ قوم کو سب سے بڑا خطرہ اپنے ہی فوجیوں اور سیکورٹی حکام کی طرف سے ہے، لیکن کوئی بات نہیں، امریکی اتنا سا رسک تو لے ہی سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون تباہ ہونے کے بعد تحقیقات سے پتہ چل ہی جائے گا کہ ذمہ دار کون تھا اور پھر اس ذمہ دار پر دنیا کے سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جائے گا اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اور پینٹا گون کی تباہی پر یورپی یونین، برطانیہ اور تمام امریکی آفیشیل افسوس کا اظہار بھی ضرور کریں گے۔ لیکن یاد رکھیے یہ سب ارادی طور پر نہیں کیا گیا۔

Filed under: Features, Urdu Tagged: army, Islam, Killing, militry, Muslims, Pakistan, troops, USA, قتل, مسلمان, مسلمان ممالک, نیٹو فوجی, ناٹو فوج, وار آن ٹیرر, پاکستان, پاکستانی فوج, War on Terror, امریکہ, امریکی فوج, امریکی جنگ, جنگ, دہشت گردی, سیاست

Comments Off

یاسر عمران - گوگل کی کمائی کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ سے

Nov
29

گوگل آن لائن ایڈورٹائزنگ کا ایک جن Giant ہے ۔ اس کی کمائی کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ گوگل سرچ انجن، مجموع طور پر گوگل کمپنی کے کاروبار کا ایک مرکزی جزو ہے اس لیے اسی سرچ کو بہتر سے بہتر بناتے ہوے وہ دنیا بھر کے کاروبار مالکان کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ گوگل کے مرکزی صفحات پر ایڈورٹائزنگ کے لیے جگہ خریدیں۔ ایسا کرنے کے لیے کاروبار کے مالکان کو گوگل ایڈورڈز Google Adwords میں اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے۔ جس کے بعد وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے حساب سے ان کی ورڈز کے لیے گوگل کے مرکزی صفحہ پر جگہ خریدتے ہیں جو کی ورڈ ان کے کاروبار سے متعلقہ ہوتے ہیں۔

مقابلہ بازی کے تناسب سے ہر کی ورڈ کےلیے گوگل کےمرکزی صفحہ پر اشتہار کا ریٹ الگ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسی کا اشتہار گوگل سرچ کے مرکزی صفحہ پر ظاہر ہو اس لیے کاروبار کے مالکان زیادہ سے زیادہ اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اور جو سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے اس کا اشتہار سب سے زیادہ بار مرکزی صفحے پر ظاہر ہوتا ہے۔اور جیسے ہی کوئی انٹرنیٹ صارف اسے اشتہار پر کلک کرتا ہے گوگل اپنے ایڈورٹائزر کے اکاؤنٹ سے اتنی رقم کاٹ لیتا ہے جتنی اس نے بولی لگائی ہوتی ہے۔

چونکہ دنیا بھر میں بے شمار طرز کے کاروبار اب انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکے ہیں اس لیے گوگل کے پاس بذریعہ اشتہارات کمانے کے مواقع اسی قدر بڑھ چکے ہیں۔ ہر طرز کے کاروبار کے لیے مختلف کی ورڈ موجود ہیں جو کہ انٹرنیٹ صارفین تلاش کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ اور ان بے شمار کی ورڈز کے وزٹر حاصل کرنے کی مانگ بھی بے پناہ بڑھ چکی ہے۔ نیچے ایک ایسی فرم کی تیار کردہ شماریات موجود ہے جو گوگل ایڈورڈز Adwords سیٹ اپ کرنے میں اور اس سے بہتر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں کاروبار مالکان کی مدد کرتی ہے۔ یہ شماریات گوگل ایڈورڈز کے بیس مہنگے ترین کی ورڈز کی ہے۔ اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوگل کمپنی کے منافع کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ / تشہیر / اشتہار بازی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ رقم 2010 کی تیسری سہ ماہی سے لے کر 2011 کی دوسری سہ ماہی تک 32.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کا سوچ کر مجھے کسی مشہور دانشور کا وہ فقرہ یاد آ رہا ہے کہ اگر دنیا میں تمام پراڈکٹس کی مارکیٹنگ/تشہیر پر لگنے والا پیسہ روک دیا جائے تو صارفین کو پراڈکٹس اس سے آدھی قیمت پر ملیں جس موجودہ قیمت پر وہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

where-does-google-make-its-money

گوگل کے مرکزی صفحے پر اشتہار بازی کے علاوہ ، گوگل بیشتر کئی جگہوں پر اشتہارات کے لیے جگہ بھی فروخت کرتا ہے، جیسے جی میل ان باکس میں اشتہارات، یوٹیوب ویڈیوز پر اشتہارات اور عام صارفین کے بلاگز اور ویب سائٹ پر اشتہارات بذریعہ گوگل ایڈسینس Google Adsense۔ تاہم بذریعہ گوگل ایڈسینس ہونے والی آمدنی کا فقط 32 فیصد ہی گوگل تک پہنچ پاتا ہے کیوں کہ بقیہ 68 فیصد گوگل اس ویب سائٹ کے مالک کو ادا کرتا ہے جس نے بذریعہ ایڈسینس اشتہار لگائے ہوتے ہیں۔ اس پر پھر کبھی مزید بات ہو گی ان شاء اللہ۔

اس مضمون کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سب لوگ ان مہنگے کی ورڈز کو ٹرائی کرنا شروع کر دیں۔ گوگل پر high paying keywords کے نام سے سرچ کریں تو آپکو ہزاروں ایسی سائٹس مل جائیں گی جو مہنگے کی ورڈز بیان کر رہی ہوں گی۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ کتنے ہی لوگ آپ سے پہلے یہ سب جانتے ہیں۔ ظاہر ہے خود جاننے کے بعد ہی انہوں نے یہ ورڈز اپنے اپنے بلاگ پر شائع کیے ہوے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہیں تو انہوں نے یہ کی ورڈ ٹرائی بھی ضرور کیے ہوں گے۔

دوسری بات یہ، کہ گوگل بھی ان کو ورڈز کے عام پبلک تک پہنچ جانے کو جانتا ہو گا اور اس کا مقصد اپنی ایڈورٹائزرز یعنی Google Adwords کے گاہکوں کو بہترین وزٹر پہنچانا بھی ہے نہ کہ سپیم وزٹرز، اس لیے وہ اس طرز کے مہنگے کی ورڈز کے ساتھ یقیننا کافی حساس واقع ہوا ہے۔ اس لیے اس نے یقیننا ایسے اقدامات کیے ہوں گے جن سے کوئی ان کی ورڈز کا مس یوز نہ کر سکے۔

اگر آپ بلاگ یا ویب سائٹ بنانا ہی چاہتے ہیں تو ایسے موضوع پر ویب سائٹ بنائیں جو آپکا پسندیدہ ہو، جس پر آپ لکھ سکتے ہوں، مواد مہیا کر سکتے ہوں۔ اس پر کچھ عرصہ محنت کرنے کے بعد آپ گوگل اشتہارات Google Adsense کو استعمال کریں، یقیننا آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ لیکن اس امر کا ضرور خیال رکھیں کہ عام دنیا میں جب آپ ایک نئی دکان کھولتے ہیں تو تقریبا پہلے سال وہ آپ کو کوئی خاص منافع نہیں‌دیتی بلکہ فقط آپ سے محنت ہی کرواتی ہے۔ اور آن لائن بزنس کے اصول بھی وہی ہیں۔

گوگل ایڈسینس کے متعلقہ مزید مضامین

چودہ غلطیاں جو آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کروا سکتی ہیں

گوگل ایڈسینس کی بنیادی ٹرمز جانیے

ویب سائٹ یا بلاگ سے آمدنی

گوگل ایڈسینس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ

Filed under: Edu, Urdu Tagged: AdSense, Advertising, AdWords, earning online, Google, Google AdSense, google business, google search, google’s earning, how google earn, Pakistan, Search Engine, Urdu, Urdu Blog, Urdu book, مارکیٹنگ, گوگل, گوگل کی کمائی, گوگل کیسے کماتا ہے, گوگل ایڈورٹائزنگ, گوگل ایڈسینس, پاکستانی بلاگر, انٹرنیٹ پر کمائی, ایڈ سینس, ایڈسینس, اردو بلاگنگ, اشتہار, اشتہاری مہم, اشتہارات, سرچ انجن

Comments Off

یاسر عمران - اولاد کے لیے ماں کی محبت اور قربانی کا جذبہ

Oct
19

mother-and-childاعلٰی تعلیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے ملک کی ایک بڑی نامور کمپنی میں ادارتی منصب کیلئے درخواست جمع کرائی اور اُسے ابتدائی طور پر اِس منصب کیلئے موزوں اُمیدوار قرار دیکر فائنل انٹرویو کیلیئے تاریخ دیدی گئی۔

انٹرویو والے دن کمپنی کے مُدیر (کمپنی کا سربراہ) نے نوجوان کی پروفائل کو غور سے دیکھا اور پڑھا، نوجوان اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر آخری مرحلے تک نا صرف کامیاب ہوتا رہا تھا بلکہ اپنے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا رہا تھا۔ اُسکی تعلیم کا یہ معیار آخر تک برقرار رہا تھا۔ مُدیر نے جوان سے پوچھا: تعلیم کے معاملے میں تمہیں کبھی کوئی مشکل یا کوئی ناکامی بھی پیش آئی، جسکا جواب نوجوان نے کبھی نہیں کہہ کر دیا۔

مُدیر نے پوچھا: یقینا یہ تمہارے والد ہونگے جنہوں نے تمہاری اِس مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کیئے ہونگے؟
نوجوان نے کہا نہیں، میرے والد کا تو اُس وقت ہی انتقال ہو گیا تھا جب میں ابھی اپنی پہلی جماعت میں تھا۔ میرے تعلیم کے سارے اخراجات میری امی نے اُٹھائے ہیں۔

مُدیر نے پھر کہا؛ اچھا، تو پھر تمہاری امی کیا جاب کرتی ہیں ؟

نوجوان نے بتایا کہ میری امی لوگوں کے کپڑے دھوتی ہیں۔

مُدیر نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اپنے ہاتھ تو دِکھاؤ۔ نوجوان نے ہاتھ اُسے تھمائے جو کہ اِنتہائی نرم و نازک اور نفیس تھے، ہاتھوں کی نزاکت سے تو شائبہ تک نہیں ہوتا تھا کہ نوجوان نے تعلیم کے علاوہ کبھی کوئی اور کام بھی کیا ہوگا۔ مُدیر نے نوجوان سے پوچھا: کیا تم نے کپڑے دھونے میں کبھی اپنی امی کے ہاتھ بٹائے ہیں؟

نوجوان نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا: نہیں، کبھی نہیں، میری امی ہمیشہ مجھے اپنا سبق یاد کرنے کو کہا کرتی تھیں، اُنکا کہنا تھا کہ کپڑے وہ خود دھو لیں گی۔ میں زیادہ سے زیادہ کُتب کا مطالعہ کرتا تھا، اور پھر میری امی جتنی تیزی اور پُھرتی سے کپڑے دھوتی تھیں میں تو اُتنی تیزی سے دھو بھی نہیں سکتا تھا۔

مُدیر نے نوجوان سے کہا؛ برخوردار، میری ایک شرط ہے کہ تم آج گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوؤ اور کل دوبارہ میرے پاس واپس آؤ تو میں طے کرونگا کہ تمہیں کام پر رکھا جائے کہ نہیں۔

نوجوان کو یہ شرط کُچھ عجیب تو ضرور لگی مگر کام ملنے کے اطمئنان اور خوشی نے اُسے جلد سے جلد گھر جانے پر مجبور کردیا۔ گھر جا کر نوجوان نے اپنی ماں کو سارا قصہ کہہ سُنایا اور ساتھ ہی اُسے جلدی سے ہاتھ دھلوانے کو کہا۔ آخر نوکری کا ملنا اس شرط سے جُڑا ہوا تھا۔

نوجوان کی ماں نے خوشی تو محسوس کی، مگر ساتھ ہی اُسے یہ شرط عجیب بھی لگ رہی تھی۔ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے اور خیالات آ رہے تھے کہ آخر نوکری کیلئے یہ کِس قسم کی شرط تھی؟ مگر اِس سب کے باوجود اُس نے اپنے ہاتھ بیٹے کی طرف بڑھا دیئے۔

نوجوان نے آہستگی سے ماں کے ہاتھ دھونا شروع کیئے، کرخت ہاتھ صاف بتا رہے تھے کہ اِنہوں نے بہت مشقت کی تھی۔ نوجوان کی آنکھو سے آنسو رواں ہو گئے۔ آج پہلی بار اُسے اپنی ماں کے ہاتھوں سے اُس طویل محنت کا ندازہ ہو رہا تھا جو اُس نے اپنےاِس بیٹے کی تعلیم اور بہتر مُستقبل کیلئے کی تھی۔

ہاتھ انتہائی کُھردے تو تھے ہی اور ساتھ ہی بہت سی گانٹھیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ آج نوجوان کو پہلی بار محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کھردرا پن اگر اُسکی تعلیم کی قیمت چُکاتے چُکاتے ہوا تھا تو گانٹھیں اُسکی ڈگریوں کی قیمت کے طور پر پڑی تھیں۔ نوجوان ہاتھ دھونے سے فراغت پا کر خاموش سے اُٹھا اور ماں کے رکھے ہوئے باقی کپڑے دھونے لگ گیا۔ وہ رات اُس نے ماں کے ساتھ باتیں کرتے گُزاری، تھوڑے سے کپڑے دھونے سے اُسکا جسم تھکن سے شل ہو گیا تھا۔ سارا سارا دن بغیر کوئی شکوہ زبان پر لائے کپڑے دھونے والی ماں سے باتیں کرنا آج اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا، دِل تھا کہ کسی طرح بھی باتوں سے بھر نہیں پا رہا تھا۔

دوسرے دِن اُٹھ کر نوجوان دوبارہ اُس کمپنی کے دفتر گیا، مُدیر نے اُسے اپنے کمرے میں ہی بُلا لیا۔ نوجوان کے چہرے سے اگر جگ راتے کی جھلک نُمایاں تھی تو آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کسی ندامت اور افسردگی کی کہانی سُنا رہی تھی۔
مُدیر نے نوجوان سے پوچھا، کل گھر جا کر تُم نے کیا کیا تھا؟

نوجوان نے مختصرا کہا کہ کل میں نے گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوئے تھے اور پھر اُس کے باقی بچے ہوئے کپڑے بھی دھوئے تھے۔ مُدیر نے کہا میں تمہارے محسوسات کو پوری سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سُننا چاہتا ہوں۔

نوجوان نے کہا: کل مُجھے لفظ قُربانی کے حقیقی معانی معلوم ہوئے۔ اگر میری امی اور اُسکی قُربانیاں ناں ہوتیں تو میں آج اِس تعلیمی مقام پر ہرگز فائز نہ ہوتا۔ دوسرا میں نے وہی کام کر کے اپنے اندر اُس سخت اور کٹھن محنت کی قدر و قیمت کا احساس پیدا کیا جو میری ماں کرتی رہی تھی اور مُجھے حقیقت میں اُسکی محنت اور مشقت کی قدر کا اندازہ ہوا۔ تیسرا مُجھے خاندان کی افادیت اور قدر کا علم ہوا۔ مُدیر نے نوجوان کو بتایا کہ وہ اپنی کمپنی میں موجود ادارتی منصب کیلئے ایک ایسے شخص کی تلاش تھا جو دوسروں کی مدد کا جذبہ رکھنے والا ہو، دوسرے کا اِحساس کرنے والا ہو اور صرف مال کا حصول ہی اُسکا مطمعِ نظر نہ ہو۔ نوجوان تمہیں مبارک ہو، میں تمہیں اِس منصب کیلئے منتخب کرتا ہوں۔

اور کہتے ہیں کہ نوجوان نے اُس کمپنی میں بہت محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ کام کیا، دوسروں کی محنت کی قدر اور احساس کرتا تھا، سب کو ساتھ لیکر چلنا اور سارے کام مِل جُل کر ایک فریق کی حیثیت سے انجام دینا اُسکا وطیرہ تھا، اور پِھر اُس کمپنی نے بھی بہت ترقی کی۔ یقینن ہمارے والدین ہمارے لیے اس قدر محنت ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق اور موقع دے۔ آمین

فیس بک سے ایک اقتباس

Filed under: Urdu Tagged: children, hard work, mothers sacrifice, parent’s hardships, ماں, ماں کی محبت, ماں باپ, نوکری, والدین, والدین کی محبت, کپڑے دھونا, اولاد, اردو, اعلی تعلیم

Comments Off

یاسر عمران - پاکستان دنیا کا ایک امیر ترین ملک آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیوں؟

Oct
16

کچھ عرصہ قبل انٹرنیٹ پر دو امریکنوں کے درمیان ایک مزاحیہ طرز کا مکالمہ کافی جگہ شائع ہوا جس میں دونوں امریکی مستقبل کی کسی وقت میں پاکستان کو دنیا کے امیر ترین روپ میں دیکھتے ہیں اور پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ مکالمہ کسی پاکستانی کی ہی تخلیق تھا جسے پڑھ کر میں نے بے اختیار ٹھنڈی سانس لی اور سوچا کاش حقیقت میں ایسا ہی ہو۔

لیکن آج ایک پاکستانی صاحب سے ملاقات کے بعد ان کے پر اثر دلائل سننے اور انٹرنیٹ پر چند ریسرچ رپورٹس دکھانے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو وہ واقعی مستقبل میں دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے سیاستدان اور پاکستان کا میڈیا ہے۔

سیاست دان اس لیے کہ وہ بیرونی طاقتوں کے پے رول پر پاکستان کو مسلسل تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان میں‌مصنوعی مسائل اور مصنوعی طور پر وسائل کی قلت پیدا کر کے عوام کو روٹی اور پیٹ کے چکر سے ہی باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا۔ اور ذمہ دار کوئی ایک حکومت نہیں بلکہ گزشتہ کئی دھائیوں کی حکومتیں بیرونی طاقتوں کی اس سازش کی ایک کڑی رہی ہیں۔ اور میڈیا اس لیے کہ، وہ مسلسل غیر ضروری مسائل اور چٹ پٹے موضوعات پر پاکستان کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ میڈیا سے وابستہ بیشتر افراد صحیح حقائق کو جانتے ہیں مگر وہ خاموش ہو جاتے ہیں یا خاموش کرا دیے جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا ایک امیر ترین ملک کیسے ہے؟ اس سوال کا جواب یہ کہ پاکستان میں‌دنیا بھر کے قدرتی وسائل اور معدنیات موجود ہیں۔ ان معدنیات میں کوئلہ، تیل، تانبا اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ ان میں‌زیادہ تر وسائل تر بلوچستان میں ہیں۔ لیکن دیگر علاقوں پنجاب اور سندھ میں‌بھی موجود ہیں۔ ان وسائل کے متعلق جاننے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں فقط گوگل سرچ ہی کافی ہے۔

پاکستان میں موجود کوئلے کے ذخائر سے بجلی بنانے کے موضوع پر ڈاکٹر ثمر مبارک کئی بار مختلف ٹی وی پروگرامز میں بات کر چکے ہیں‌مگر کوئی بھی انہیں‌وسائل مہیا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بلکہ حکومتی عہدیدار مسلسل وسائل کی کمی کا رونا رو رو کر پاکستان کو بھکاری بنانے پر تلے ہوے ہیں۔ کبھی چین سے تو کبھی سعودی عرب سے اور کبھی امریکہ سے امداد کے لیے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔

اس ویڈیو میں‌بیشتر قدرتی وسائل کا ذکر کیا جا رہے ہے۔

یہاں‌کامران خان ایک اور تیل کے ذخیرے کا ذکر کر رہا ہے۔

اس تحقیقی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 6 ٹریلین بیرل کے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
[url=http://www.globalresearch.ca/index.php?context=va&aid=7705]The Destabilization of Pakistan[/url]

مزید تلا ش پر آپ کو مزید تحقیقاتی مقالے اور ویڈیوز مل جائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بھرپور قدرتی وسائل کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں‌کیوں‌پھنستا چلا جا رہا ہے؟

Filed under: Features, Urdu Tagged: destabilization of pakistan, Energy crisis, energy in pakistan, gold and copper reserves in pakistan, natural resources, oil reserves, Pakistan, United States, Urdu

Comments Off

یاسر عمران - قرآن آڈیو بلاگ – انٹرنیٹ پر تلاوت قرآن سنیے

Aug
17

quran-online

میری بہت عرصے سے یہ خواہش تھی کہ میں مکمل قرآن کریم اپنے بلاگ میں شامل کروں ۔ اس سلسلے میں اپنے بلاگ پر میں نے کئی پوسٹس کیں جن میں قرآن کریم یا تو ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کیا گیا یا قرآن کریم کی تلاوت ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک دیا گیا۔ تاہم ورڈ پریس بلاگ پر قرآنی سورتیں اٹیچ نہ کی جا سکیں کیوں کہ ورڈ پریس ڈاٹ کام بلاگ پر ڈاکومنٹس اور تصاویر تو اٹیچ کی جا سکتی ہیں لیکن صوتی فائلز نہیں۔ بعدازاں میں نے بلاگر ڈاٹ کام پر بھی آڈیو فائلز شامل کرنے کی کوشش کی مگر وہ طریقہ کار بھی جما نہیں۔ کئی بار میں نے سوچا کہ اپنی ہوسٹنگ خرید کر اس پر بلاگ بناؤں اور اس میں قرآن کریم کی تلاوت شامل کروں لیکن وہ خیال بھی تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔

کچھ عرصہ قبل میں نے بلاگ ڈاٹ کام پر موجود نظام کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا وہاں پر اگر چہ ورڈ پریس پلیٹ فارم ہی کام کر رہا لیکن صوتی یعنی آڈیو فائلز شامل کرنے کے گنجائش موجود ہے۔ اس بات کا علم ہونے کے ساتھ ہی قرآنی تلاوت پر مشتمل بلاگ بنانے کا خیال ایک بار پھر جاگ اٹھا۔ جس پر میں نے بلاگ ڈاٹ کام پر ایک نئی سب ڈومین حاصل کی۔

http://quranmp3.blog.com

پھر امام کعبہ ماہر المعیکلی کی تلاوت حاصل کی اور اسے بلاگ پر اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا۔ یکے بعد دیگرے تمام قرآنی صورتیں شامل کیں اور انہیں ترتیب میں درست کیا۔ جس کا نتیجہ قرآن ایم پی تھری بلاگ کی صورت میں آج مکمل ہو چکا ہے۔ تمام قرآنی سورتوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اوپر ایک نیوی گیشن بار موجود ہے ۔جہاں پر تمام صفحات کے لنک شامل ہیں۔ ہر صفحہ دس سورتوں پر مشتمل ہے ، یوں مکمل قرآنی سورتیں بارہ صفحات پر سمائی ہوئی ہیں۔اور کسی ایک سورت کی تلاوت سننے کے لیے اس کے ٹائٹل پر کلک کرنے کے بعد ذیلی صفحہ موجود ہو گا جہاں پر ایک آن لائن پلئر تلاوت چلانا شروع کر دیتا ہے۔

میں اس پراجیکٹ پر مزید کام کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں اور ارادہ ہے کہ مزید قاری حضرات کی تلاوت بھی اس بلاگ پر شامل کروں۔ اگرچہ انٹرنیٹ بہت وسیع ہے اور اس پر قرآنی تلاوت سننایا ڈاؤن لوڈ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔ آپ کو درجنوں ایسی ویب سائٹس مل جائیں گی جہاں تلاوت موجود ہے۔ لیکن قرآن پیغام حق ہے اور یہ جس قدر زیادہ پھیلایا جا سکے اس قدر بہتر ہے۔ چنانچہ انٹرنیٹ پر تلاوت کے ذخیرے میں میری یہ ایک چھوٹی سی کوشش بھی شامل ہو جائے اور اللہ تعالی میرا یہ عمل قبول فرمائیں۔

یہ پراجیکٹ میں اپنے ماں باپ اور اپنے استادوں کے نام منسوب کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں قرآن شریف پڑھ سکوں اوراسے دوسروں تک پہنچا سکوں۔ بہت شکریہ

نوٹ: چونکہ یہ قرآن سے متعلقہ بلاگ ہے اس لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہ ہو اور اختتام پر میں نے تمام پوسٹس کا پھر سے جائزہ بھی لیا ہے ۔ اس کے باوجوداگر کوئی غلطی نظر آئے تو مجھے جلد از جلد ای میل کر دیں تاکہ غلطی کو درست کیا جا سکے۔

Filed under: Islam, Urdu Tagged: Listen Quran, Quran, Quran Audio, quran mp3, quran online, quran recitation, recitation online, قرآن, قرآن آڈیو بلاگ, قرآنی تلاوت, آن لائن قرآن سنیے

Comments Off

یاسر عمران - چودہ غلطیاں جو آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کروا سکتی ہیں

Jul
24

میں ایک گزشتہ پوسٹ میں بتا چکا ہوں کہ گوگل ایڈسینس ویب سائٹ یا بلاگ سے پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ ہے اور گوگل ایڈسینس کی بنیادی ٹرمز کی کیا تعریف ہے۔ اس پوسٹ میں ان اسباب کا ذکر کر رہا ہوں جو نئے گوگل ایڈسینس پبلشرز کے اکاؤنٹ بلاک ہو جانے کا سبب بنتے ہیں۔انگریزی کا مشہور محاورہ ہے “ٹو ایرر از ہیومن، ٹوفارگیو از ڈیوائن” جس کا مطلب یہ ہے کہ “انسان خطا کا پتلا ہےاور خدا خطائیں معاف کرنے والا ہے” تاہم جب بات گوگل ایڈسینس کی آتی ہے تو “غلطی کی معافی کی گنجائش نشتہ” والی بات ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ گوگل ایڈسینس اپنے پبلشرز کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی معاف کرنے کو تیار نہیں۔ آپ کسی ایسی ہی چھوٹی سی غلطی کا شکار ہو کر اپنا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کروا لیتے ہیں۔ اور آپکی تمام محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ گوگل ایڈسینس والے یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کی دی گئی ہدایات اور پالیسیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ایک دفعہ آپ پر گوگل ایڈسینس کی طرف سے پابندی لگ گئی سمجھیے زندگی بھر کے لیے لگ گئی۔

ایک ۔ اپنی ویب سائٹ پر لگے ہوئے اشتہارات پر خود سے کلک کرنا

گوگل ایڈسینس کے نئے پبلشرز اکاؤنٹ منظور ہونے کے فورا بعد ہی تیز رفتار کمائی کے چکر میں اپنے اشتہارات پر کلک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنا دراصل انڈے دینے والی مرغی کو خود ہی قتل کرنے جیسا ہے۔ کچھ پبلشرز اپنے کمپیوٹر سے ہٹ کر کسی دوسرے کمپیوٹر پر جا کر اپنی سائٹ کے اشتہارات پر کلک کرتے ہیں۔ یاد رکھیے گوگل اس معاملے میں بہت چالاک ہے اور وہ بہت جلد آپکو پکڑ لے گا۔ اورآپکی ہمیشہ کے لیے چھٹی۔۔۔

دو ۔ روبوٹ یا سافٹ وئر کی مدد سے اپنی سائٹ پر لگے ہوے اشتہارات پر کلک کرنا اور امپریشنز کی تعداد بڑھانا

بازار میں ایسے بہت سے سافٹ وئر دسیتاب ہیں جو آپکی سائٹ پر لگے ہوے اشتہارات پر خودکار طریقے سے کلک کرتے ہیں۔ ان سافٹ وئرز میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ یہ خودکار طریقے سے آئی پی تبدیل کر لیتے ہیں، مختلف اوقات میں مختلف انداز سے کلک کر کے گوگل ایڈسینس والوں کو دھوکہ دینے کا پورا انتظام کرتے ہیں، مگر گوگل ان سافٹ وئرز کو پکڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، اور ایسا ہو جانے کی صورت میں آپکا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔

تین ۔ دوستوں سے کہہ کر اپنی سائٹ پر ظاہر ہونے والے اشتہارات پر کلک کروانا

اکثر لوگ اپنے دوستوں سے کہہ کر اپنی ویب سائٹ پر لگے گوگل اشتہارات پر کلک کرواتے ہیں۔ ایسا کرنا ایک تو دھوکہ دہی کے ذمرے میں آتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ گوگل اس طرح کی حرکتوں کو بہت جلد پکڑ لیتا ہے۔ اکثر انٹرنیٹ فورمز پر اس طرح کے اشتہارات نظر آتے ہیں کہ آپ میرے اشتہارات کلک کریں، میں آپکے کرتا ہوں۔ ایسا کرنا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔

چار ۔ کلک ایکسچینج سائٹس جوائن کرنا اور ان کی خدمات سے مستفید ہونا

کلک ایکسچینج سائٹس بھی دراصل ایک دوسرے کے اشتہارات پر کلک کرنے کی ہی ایک شکل ہے۔ ایسا کرنے کے بعد بھی آپ گوگل کو دھوکا نہیں دے پائیں گے۔

پانچ ۔ اپنی سائٹ پر لگے ہوے اشتہارات پر کلک کرنے کے عوض صارفین کو مفت خدمات مہیا کرنے کا لالچ دینا

کئی ویب سائٹ مالکان اپنی ویب سائٹ پر اس طرز کے پیغام دیتے ہیں کہ ہم آپکو ڈاون لوڈ کی سہولت مفت مہیا کر دیں گے آپ ہمارے اشتہارات پر کلک کریں۔ ایسا کرنا گوگل کی پالیسی کے منافی ہے اوراگر آپکی سائٹ پر اس طرز کے پیغامات ہوں تو بہت جلد گوگل آپ کا اکاؤنٹ بند کر دے گا۔

چھے ۔ اپنی سائٹ پر ایسے پیغام دینا “اشتہار پر کلک کر کے ہمیں عطیہ دیں

ویب سائٹ پر خدمات دینے کے عوض عطیہ دینے کا بینر اکثر ویب سائٹس پر لگا ہوتا ہے جو کہ قطعی غلط نہیں اگر آپ پبلک سروس کا کوئی کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ شوقیہ طور پر بھی عطیہ دیں کا بینر لگا دیں تو گوگل کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ تاہم اگر بینر میں اس طرح کا پیغام لکھا ہو یا فقط کوئی اشارہ موجود ہو کہ ویب سائٹ پر موجود اشتہارات پر کلک کر کے ہمیں عطیہ دیں تو وہ گوگل کی پالیسی کے مطابق قابل اعتراض بات ہو گی۔ جس پر آپکا اکاؤنٹ بند بھی ہو سکتا ہے۔

سات ۔ مبہم سرخیوں کے نیچے اشتہار لگانا

غیر واضح اور مبہم سرخیوں کے نیچے اشتہار لگانا بھی آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔کیوں کہ اس سے گوگل ایڈسینس کی ٹیم کو یہ شک پڑ سکتا ہے کہ آپ صارف کو اشتہار پر کلک کرنے کے لیے اکسا رہے ہیں۔

آٹھ ۔ اشتہارات کی طرف اشارہ دے کر اسے نمایاں کرنے کی کوشش

Google Adsense

ویب سائٹ میں جہاں بھی آپ گوگل ایڈسینس کا کوڈ لگائیں اس کی طرف کوئی تصویری اشارہ دینا گوگل کی پالیسی کے خلاف ہے اور ایسا کرنے پر گوگل آپکا اکاؤنٹ بند کر سکتا ہے۔

نو ۔ ایسی سائٹس پر اشتہار لگانا جو گوگل کی ٹرمز آف سروسز کے منافی ہوں

Google Adsense

ایسی ویب سائٹس جن میں اخلاق کے منافی تصاویر، ویڈیوز یا نفرت انگیز مضامین شامل ہوں پر گوگل ایڈسینس کے اشتہار لگانا گوگل ایڈسینس کی پالیسی کے خلاف ہے چنانچہ آپ کسی بھی ویب سائٹ میں گوگل ایڈسینس کوڈ لگاتے وقت احتیاط برتیں۔

دس ۔ ایسے پیج پر اشتہار لگانا جہاں گوگل ایڈز جیسا فارمیٹ پہلے ہی موجود ہو

کسی بھی ایسے پیج میں اشتہار لگانا، جہاں کا مواد پہلے ہی گوگل ایڈز کے فارمیٹ کے مطابق ہو۔ اور جسے دیکھنے کے بعد انٹرنیٹ صارف کنفیوز ہو جائے کہ آیا یہ اشتہار ہے یا ویب سائٹ کا مواد ، وہاں پر بھی اشتہار لگانا آپکا اکاؤنٹ بند ہو جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

گیارہ ۔ تصاویر کے ساتھ جوڑ کر اشتہار لگانا

Google Adsense

گوگل ایڈسینس کے اشتہارات کے ساتھ کسی بھی قسم کی تصاویر یا ویڈیوز لگانا گوگل ایڈسینس کی پالیسی کے خلاف ہے۔ گوگل ایڈسینس ٹیم اس قسم کی خلاف ورزیوں کا سختی سے جائزہ لیتی ہے اور اکاؤنٹ فورا بند کر دیتی ہے۔

بارہ ۔ گوگل اشتہارات کو اپنی سائٹس کے لنکس کی طرز کا فارمیٹ دینا

اگر آپ اپنی ویب سائٹ کے لنکس اور ھیڈنگ کو ۱۰۰ فیصد گوگل ایڈسینس کے لنکس کی شکل دے دیں گے تو صارف گوگل ایڈسینس کے اشتہار پر اسی ویب سائٹ کا اندرونی لنک سمجھ کر کلک کر دے گا۔ ایسا کرنا بھی آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کروا سکتا ہے۔

تیرہ ۔ اشتہارات کو نیوی گیشن بار کے نیچے اس طرح لگانا کہ وہ حادثاتی طور پر کلک ہوجائیں

Google Adsense

تیز رفتار آمدن کے چکر میں مختلف ویب ڈویلپرز مختلف غیر قانونی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی نیوی گیشن بار کے نیچے اشتہار لگانا ہے۔ نیوی گیشن بار کو ذیلی مینوز میں تقسیم کر کے عین اس کے نیچے اشتہار لگانے سے اکثر اوقات صارف کی مرضی کے بغیر کلک ہونے کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ ایسا کر کے اکثر ویب ڈویلپرز اپنی دانست میں گوگل ایڈسینس اور انٹرنیٹ صارفین، دونوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر گوگل ایڈسینس والے اس طرح کے ہتھکنڈوں کو بہت جلدی پکڑ لیتے ہیں اور اکاؤنٹ بند کردیتے ہیں۔

چودہ ۔ گوگل ایڈسینس کی طرف سے دے گئے کوڈ میں تبدیلی کرنا

اکثر ویب ڈویلپرز گوگل ایڈسینس کی طرف سے دیے گئے کوڈ میں تبدیلیاں کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرنا بھی آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون راکیش کے بلاگ سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا  تا کہ اردو صارفین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ علاوہ ازیں یہ مضمون پاکستان کی آواز میگزین کے جولائی کے شمارے میں بھی شامل ہے۔

Filed under: Edu, Urdu Tagged: AdSense, Advertising, AdWords, blog, Blogging, earning online, Google, Google AdSense, google search, Pakistan, Pakistani, Promotion, Search Engine, Search Engine Optimization, Urdu, Urdu Blog, Urdu book, یاھو پبلشر, گوگل, گوگل ایڈسینس, پاکستانی بلاگ, پاکستانی بلاگر, Web Design and Development, Yahoo Publisher Network, آن لائن کمائیے, انٹرنیٹ پر کمائی, ایڈ سینس, ایڈسینس, ایس ای او اردو, اردو, اردو کتاب, اردو بلاگنگ, اشتہارات, بلاگستان, سرچ انجن, سرچ انجن آپٹیمائزیشن

Comments Off

یاسر عمران - ماہنامہ پاکستان کی آواز جولائی 2011

Jul
23

پاکستان کی آواز کا جولائی 2011 کا شمارہ پیش خدمت ہے۔ یہ آن لائن میگزین میں اور میرے چند دوستوں کی مشترکہ کاوش ہے ۔ ہم اپنی بہترین کوشش کر رہے ہیں کہ ہر نیا شمارہ پہلے شمارے سے بہتر ہو۔ اس سلسلے میں دوستوں کی رائے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ نیچے دیے گئے لنک سے ڈاؤنلوڈ کر لیں۔

اس سے قبل پاکستان کی آواز میگزین برائے جنوری اور برائے فروری بھی میرے بلاگ پر شائع ہو چکے ہیں جن کے روابطہ یہ اور یہ ہیں۔

Pakistan-ki-Awaz-July2011

Filed under: Edu, Urdu Tagged: Pakistan, pakistan ki awaz, Pakistani, pakistani forum, paknet, Urdu, urdu forum, Urdu magazine, urdu websites, میگزین, پاک نیٹ, پاکستان, پاکستان کی آواز, پاکستان کے فورمز, پاکستانی فورمز, پاکستانی میگزین, انٹرنیٹ پر اردو, اردو میگزین, اردو مجلہ, اردو ویب سائٹ, اردو کتاب, اردو کتابچہ, اردو بلاگز, اردو جریدہ, اردو رسالہ, اردو شمارہ

Comments Off

یاسر عمران - فریاداں میریاں از محمد یاسرعلی

Jul
05

پہلے تو فقط پردیسی شوہر ہی بیگم کے ظلم سے پریشان نظر آتے تھے مگر اب یاسر علی کی یہ نظم پڑھ کر لگ رہا ہے کہ دیسی شوہر بھی محفوظ نہیں۔ محمد یاسر علی کی یہ ایک مزاحیہ نظم پیش کر رہا ہوں۔ جو کہ دراصل ایک مظلوم شوہر کی فریاد ہی کہی جا سکتی ہے۔ عرض کیا ہے

ہر اچھی بات میں میکے کی مثال دیتی ہے
ہر گند کا الزام سسرال پہ ڈال دیتی ہے

اپنی ہر فرمائش جوتے کے زور پہ منوائے
ہم کچھ کہیں تو ہس کے ٹال دیتی ہے

کیا مجال میری جو مزاجِ یار کے خلاف بولوں
کہ القابات بھی وہ چن کے کمال دیتی ہے

القابات جو کم پڑ جائیں تو نہ پوچھو یارو
دو چار جوتے بھی پھر وہ نال دیتی ہے

دے کے جاتا ہوں پیسے مرغِ مصلم کے
گھر لوٹتا ہوں تو چھو لو کی دال دیتی ہے

کبھی سر تال ہوتے تھے ہماری روح کی غذا
اب بیگم کی کھپ کھپ جان گال دیتی ہے

پوچھ بیٹھوں جو غلطی سے کوئی بات اس سے
آگے سے تو کر وہ لاکھوں سوال دیتی ہے

مہماں ہواگر سسرال سے تو سر باندھ لیتی ہے
ہو میکے سے تو پھر اتارمیری بھی کھال دیتی ہے

سٹار پلس سے سیکھی ہیں کیا خوب مہارتیں
ہر بات میں چل کوئی نہ کوئی چال دیتی ہے

سن لے یا رب ہن تے فریاداں میریاں
تیری ذات مصیبت سے سب کونکال دیتی ہے

جہاں کوئی مطلب کی چیز نظر آتی ہے یاسر
خود غرض دنیا وہاں ڈال اپنا جال دیتی ہے

Filed under: Poetry, Urdu Tagged: Faryadan meriyan, funny poetry, mohammad yasir ali, Urdu Poetry, فریاداں میریاں, محمد یاسر علی, مزاح, مظلوم شوہر, نظم, اردو, شوہر کی فریاد, شاعری, طنزومزاح

Comments Off

یاسر عمران - سعودی حکام کے طرف سے چھے سال پرانے ورک پرمٹ تجدید نہ کرنے کی تجویز

May
31

Saudi Arabia Flag

saudi_arabia_flag_orb

سعودی عرب میں آج ایک اہم خبر صبح سے گردش میں ہے کہ سعودی حکام کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ جو افراد 6 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، حکومت ان کے ورک پرمٹ یا اقامہ اگلے سال سے تجدید نہیں کرے گی۔ جس کے بعد ظاہر ہے 6 سال سے مقیم افراد کا سعودی عرب میں رہنا ممکن نہیں‌ہو گا۔ یہ خبر کافی تہلکہ انگیز تھی اور صبح اخبارات میں شائع ہونے کے بعد تمام غیر ملکیوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سعودی عرب میں مستقل طور پرمقیم افراد جو کہ اپنے خاندانوں سمیت یہاں مقیم ہیں وہ الگ پریشان ہو گئے اور جو لوگ اکیلے یہاں رہتے ہیں اور اپنے ملک میں موجود اپنے خاندانوں‌ کا خرچ چلاتے ہیں‌وہ اپنی جگہ پریشان۔ دوسری طرف مختلف پاکستانی چینلز نے بھی بنا تحقیق یہ خبر پاکستان میں پھیلا دی ہے۔ میرے لیے بھی یہ خبر ، عجیب اور افسوس ناک تھی۔ بعدازاں میں نے عرب نیوز کی ویب سائٹ کھول کر خبر کو تفصیل سے دیکھا تو مجھے بات کی جس طرح سمجھ آئی وہ میں‌بیان کرتا ہوں۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیرمحنت عدل فقیہ نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں 6 سال سے زائد عرصہ تک کام کرنے والے غیر ملکیوں کے ورک ویزوں میں توسیع نہیں کی جائے گی۔یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا تاکہ سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح کافی بڑھ چکی ہے اور عرب ممالک میں جاری احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ تاہم یہ فقط ایک تجویز ہے اور ابھی تک اسے حکومتی سطح پر قانون کی شکل نہیں دی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ قانون کب تک لاگو ہو گا۔ مزید برآں یہ قانون صرف پیلی کیٹیگری کی کمپنیوں کے لیے ہے۔ جو کمپنی پیلی کیٹگری میں‌آئے گی اس کے ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

سعودی عرب میں موجود کمپنیوں‌میں ہر کمپنی کے اندر کتنے سعودی ملازمین ہیں، اس تناسب سے ہر کمپنی کو ایک رنگ دیا گیا ہے۔ جیسے سرخ، پیلی اور سبز کیٹیگری۔ تمام کمپنیاں پیلی کیٹیگری میں‌نہیں آتی۔ اور مستقبل میں شاید اس طرح کی بھی کوئی گنجائش ہو گی کہ ایک کمپنی زیادہ سعودی ملازمین رکھ کر اپنی کیٹیگری کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ایک مصری باشندہ جو سعودی عرب میں‌قیام پذیر ہے کے مطابق ، تیس فیصد سعودی ملازمین رکھنے والی کمپنیاں حکومت کی منظور شدہ شرائط پوری کرتی ہیں۔ لہذا جن کمپنیوں میں 30 % سے زیادہ سعودی باشندے کام کر رہے ہیں وہ سبز کیٹگری میں‌آئیں گی اور ان کے ملازمین پر کوئی ایکشن نہیں‌لیا جائے گا۔ تاہم اگر کوئی کمپنی حکومت کی منظور کردہ شرح سے کم سعودی باشندے ملازم رکھتی ہے تو وہ سرخ یا پیلی کیٹگری میں آتی ہے اور انہیں کمپنیوں کے 6 سال سے زیادہ پرانے ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید حکومت کی طرف سے بند ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں گھریلو ملازمین کے ورک پرمٹ پر بھی کوئی ایکشن نہیں‌لیا جائے گا۔ ویسے اس طرح کے قوانین کافی عرصے سے موجود ہیں، مگر کمپنیاں چونکہ ان پر عمل نہیں کر رہیں۔ اس لیے انہیں مزید سخت کیا جا رہے ہے۔

سعودی عرب کی معاشیات بڑے تناسب میں پٹرولیم، حج اور عمرہ اور غیر ملکی باشندوں‌کے قیام کی وجہ سے نمو پا رہی ہے۔ غیر ملکی باشندے نہ صرف یہاں تعمیری پراجیکٹس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں‌بلکہ موبائل فون، اشیائے خردونوش، علاج معالجہ اور گھروں کے کرایوں کی مد میں‌بڑی رقوم بھی یہاں‌خرچ کر رہے ہیں، یوں‌ان کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور سعودی باشندے بھی خوشحال ہیں۔ تاہم اگر سعودی حکومت سختی کر کے غیر ملکی باشندوں کو یہاں سے نکالتی ہے تو نہ صرف ان افراد کے ساتھ زیادتی ہو گی بلکہ سعودی عرب کی معیشت کے لیے بھی اس کے اثرات منفی ہوں گی۔

میری طرف سے یہ مضمون ان افراد کے لیے ہے جو سعودی عرب میں مقیم ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں‌خوف کا شکار ہو چکے ہیں۔ایسے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ فکر مند نہ ہوں اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھیں ۔ ان شاء اللہ جلد ہی صورت حال بہتر ہو جائے گی۔ اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ میں خبر کو صحیح طرح سے سمجھ نہیں‌سکا یا سمجھا نہیں‌پایا تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔

خبر کی مزید تفصیل عرب نیوز کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔
http://arabnews.com/saudiarabia/article442386.ece

Filed under: Features, Urdu Tagged: Expatriates, Expatriates in Saudi Arabia, Foreign worker, Kingdom of Saudi Arabia, KSA, labor law, Labor ministry, Middle-East, Minister (government), Progress in Saudi Arabia, Saudi Arabia, Saudi Government, Saudi Press Agency, Saudization, umemployement, ورک پرمٹ, Work permit, working abroad, اقامہ, بے روز گاری, سعودی معیشت, سعودی حکومت, سعودی حکام, سعودی عرب, سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی, سعودی عرب میں کاروبار

Comments Off

Switch to our mobile site